مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہائی رسک ممالک کیلئے برطانوی ویزہ بانڈ اسکیم آغاز سے قبل ہی روک دینے کا فیصلہ !!
لندن ... رواں ماہ سے پاکستان، بھارت اور نائجیریا جیسے ہائی رسک ممالک کے لئے شروع ہونے والے ویزہ بانڈ سسٹم کو حکومت برطانیہ نے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ تھریسا مئے جلد ہی اس سکیم کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی خاتمے کا اعلان کردیں گی۔ اس سکیم کا فیصلہ ان ممالک کیلئے کیا گیا تھا جہاں سے خدشہ تھا کہ وزیٹرز برطانیہ آکر واپس نہیں جاتے ان سے ویزے کیلئےتین ہزار پائونڈزفی کس بانڈ منی لینے کا ارادہ کیا گیا تھا۔ ان ممالک میں پاکستان، بھارت اور نائیجیریا سرفہرست تھے۔ یہ فیصلہ حکومتی حلیف لب ڈیم پارٹی کے سربراہ نائب وزیراعظم نِک کلیگ کی جانب سے مخالفت کے بعد کیا گیا جنہوں نے اسے زبردستی روکنے کی دھمکی دی تھی۔ پاکستان، بھارت اور نائجیریا کو ویزا کے معاملے میں ہائی رسک یا زیادہ خطرے والے ممالک کہا جاتا ہے کیونکہ ان ممالک سے آنے والے شہریوں کا برطانیہ میں مختصر مدت کے ویزے کے بعد قیام کرنے کا تناسب زیادہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت ویزا حاصل کرنے والے افراد کو تین ہزار پاؤنڈ کے قریب رقم برطانیہ آمد سے قبل جمع کروانی پڑتی جو ان کے واپس نا جانے کی صورت میں ضبط کر لی جاتی۔ نائب وزیراعظم نِک کلیگ نے ابتدائی طور پر اس تجویز کو مارچ میں پیش کیا تھا جس کے تحت ہائی رسک ممالک سے آنے والے شہریوں کو جن کے ویزے عام طریقے پر رد کیے جا چکے ہوں گے ان کو اس طریقے سے ویزا جاری کیا جاسکتا تھا۔ بزنس کے وزیر ونس کیبل نے اس منصوبے کے اعلان کے بعد دعویٰ کیا کہ نائب وزیر کے منصوبے میں ایک ہزار پاؤنڈ کی ضمانت کی بات کی گئی تھی جس کو بعض کنزرویٹو پارٹی کے اراکین نے جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا۔ ونس کیبل نے ستمبر میں کہا تھا کہ جب نِک کلیگ نے کہا کہ اگر برِ صغیر سے مثال کے طور پر کسی کو ویزا نہیں ملتا تو وہ متبادل طور پر یہ طریقہ استعمال کر کے ضمانت دے سکتا ہے تو اسے بعض حکومتی ساتھیوں نے منفی طریقے سے غلط انداز میں پیش کیا اور یہ کہا گیا کہ ہر ایک جو برطانیہ آئے گا اسے ایک بڑی رقم ضمانت کے طور پر دینی پڑے گی۔ ضمانت کی رقم کے زیادہ ہونے سے بھارت میں شدید غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔