مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیجنے کا معاہدہ طے ،تفصیلات جاری نہیں کی گئیں
نیپیدو: میانمار کے دارالحکومت نیپیدو میں طے پانے والے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ بنگلا دیش کا کہنا ہے یہ پہلا قدم ہے۔ میانمار نے کہا ہے کہ وہ روہنگیا کو ’جلد از جلد‘ واپس لینے کے لیے تیار ہے۔ امدادی اداروں نے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر ان کی زبردستی واپسی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ روہنگیا مسلمان بے وطن اقلیت ہیں، جنھیں عرصہ دراز سے میانمار میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اگست میں میانمار کی ریاست رخائن میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں نقل مکانی کی تھی۔بدھ کو امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ میانمار کی اقلیتی آبادی روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی نسل کشی پر مشتمل ہے۔ میانمار کی فوج نے روہنگیا افراد کے قتل، ان کے دیہات کو نذر آتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار کی تردید کی تھی۔ یہ دعوے بی بی سی نامہ نگاروں کی جانب سے دیکھے گئے شواہد کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے۔بنگلا دیش سے روہنگیا افراد کی واپسی کا عمل کب شروع ہو گا؟ یا میانمار کی جانب سے واپسی کی شرائط کیا ہیں؟، یہ واضح نہیں ہے۔ تاہم دونوں ممالک اس مسئلے کی وجہ سے مختلف وجوہات کی بنا پر دباؤ میں ہیں۔ بنگلا دیش اپنے عوام کو دکھانا چاہتا ہے کہ روہنگیا کو مستقبل رہائش نہیں فراہم کی جائے گی جو حالیہ نقل مکانی سے پہلے ہی چالیس ہزار روہنگیا مسلمانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب برما کے حکام اور خاص طور ہر رہنما آنگ سان سوچی کو اس بحرن کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔