مقبول خبریں
نائجیریا کمیونٹی ایسوسی ایشن کا میئر چیئرٹی فنڈریزنگ ڈنر کا اہتمام ،مئیر کونسلر محمد زمان کی خصوصی شرکت
بریگزیٹ بحران :کنزرویٹو پارٹی کی تین خواتین ممبر کی آزاد گروپ میں شمولیت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
میں روشنی سے اندھیرے میں بات کرتا ہوں!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیجنے کا معاہدہ طے ،تفصیلات جاری نہیں کی گئیں
نیپیدو: میانمار کے دارالحکومت نیپیدو میں طے پانے والے اس معاہدے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ بنگلا دیش کا کہنا ہے یہ پہلا قدم ہے۔ میانمار نے کہا ہے کہ وہ روہنگیا کو ’جلد از جلد‘ واپس لینے کے لیے تیار ہے۔ امدادی اداروں نے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر ان کی زبردستی واپسی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ خیال رہے کہ روہنگیا مسلمان بے وطن اقلیت ہیں، جنھیں عرصہ دراز سے میانمار میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ اگست میں میانمار کی ریاست رخائن میں شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد نے ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں نقل مکانی کی تھی۔بدھ کو امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ میانمار کی اقلیتی آبادی روہنگیا کے خلاف فوجی کارروائی نسل کشی پر مشتمل ہے۔ میانمار کی فوج نے روہنگیا افراد کے قتل، ان کے دیہات کو نذر آتش کرنے، خواتین اور لڑکیوں کے ریپ اور لوٹ مار کی تردید کی تھی۔ یہ دعوے بی بی سی نامہ نگاروں کی جانب سے دیکھے گئے شواہد کے منافی ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی اسے نسل کشی قرار دیا جا چکا ہے۔بنگلا دیش سے روہنگیا افراد کی واپسی کا عمل کب شروع ہو گا؟ یا میانمار کی جانب سے واپسی کی شرائط کیا ہیں؟، یہ واضح نہیں ہے۔ تاہم دونوں ممالک اس مسئلے کی وجہ سے مختلف وجوہات کی بنا پر دباؤ میں ہیں۔ بنگلا دیش اپنے عوام کو دکھانا چاہتا ہے کہ روہنگیا کو مستقبل رہائش نہیں فراہم کی جائے گی جو حالیہ نقل مکانی سے پہلے ہی چالیس ہزار روہنگیا مسلمانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ دوسری جانب برما کے حکام اور خاص طور ہر رہنما آنگ سان سوچی کو اس بحرن کے حل کے لیے بین الاقوامی دباؤ کا سامنا ہے۔