مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
منتخب وزیر اعظم کو باہر پھینک دیا گیا،مشرف کیخلاف کیا کارروائی کی گئی؟ نواز شریف
ایبٹ آباد: سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے ایبٹ آباد میں بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود منتخب وزیرِ اعظم کو اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ کبھی پاناما تو کبھی واٹس ایپ کا تماشا لگا۔ عوام نے مائنس نواز شریف کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ منتخب وزیرِ اعظم کو باہر پھینک دیا گیا، ڈکٹیٹر مشرف کیخلاف کیا کارروائی کی گئی؟ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2013ء میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اس خطے سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیں گے۔ آج ہمارے اقدامات کی وجہ سے اس خطے سے لوڈشیڈنگ ختم ہ وچکی ہے۔ میں نے عوام سے اس خطے میں موٹر وے بنانے کا وعدہ کیا تھا جو بہت جلد پورا ہونے والا ہے۔ ماضی میں ہم اس خطے کی ترقی کے کاموں میں مصروف تھے اور دھرنے دینے والوں نے اس ملک کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایبٹ آباد کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ میرا کوئی قصور نہیں تھا، مجھے بلا وجہ سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کیا جا رہا ہے۔سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ فیصلے پر اپیل دائر کی تو سوال اٹھایا گیا کہ قافلے کیوں لٹتے رہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے کبھی راہزنوں سے گلہ نہیں کیا۔ آپ نے کبھی کسی راہ زن سے سوال نہیں پوچھا۔ قافلے اسی لئے لٹتے رہے، آئین اسی لئے بے توقیر ہوتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف سے پی سی او کے تحت حلف لئے گئے۔ مشرف کو کبھی کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔