مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
منتخب وزیر اعظم کو باہر پھینک دیا گیا،مشرف کیخلاف کیا کارروائی کی گئی؟ نواز شریف
ایبٹ آباد: سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرتے ہوئے ایبٹ آباد میں بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا۔ نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن اس کے باوجود منتخب وزیرِ اعظم کو اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ کبھی پاناما تو کبھی واٹس ایپ کا تماشا لگا۔ عوام نے مائنس نواز شریف کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔ منتخب وزیرِ اعظم کو باہر پھینک دیا گیا، ڈکٹیٹر مشرف کیخلاف کیا کارروائی کی گئی؟ان کا کہنا تھا کہ ہم نے 2013ء میں عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اس خطے سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیں گے۔ آج ہمارے اقدامات کی وجہ سے اس خطے سے لوڈشیڈنگ ختم ہ وچکی ہے۔ میں نے عوام سے اس خطے میں موٹر وے بنانے کا وعدہ کیا تھا جو بہت جلد پورا ہونے والا ہے۔ ماضی میں ہم اس خطے کی ترقی کے کاموں میں مصروف تھے اور دھرنے دینے والوں نے اس ملک کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایبٹ آباد کے عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ میرا کوئی قصور نہیں تھا، مجھے بلا وجہ سزا سنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کیا جا رہا ہے۔سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ فیصلے پر اپیل دائر کی تو سوال اٹھایا گیا کہ قافلے کیوں لٹتے رہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے کبھی راہزنوں سے گلہ نہیں کیا۔ آپ نے کبھی کسی راہ زن سے سوال نہیں پوچھا۔ قافلے اسی لئے لٹتے رہے، آئین اسی لئے بے توقیر ہوتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرف سے پی سی او کے تحت حلف لئے گئے۔ مشرف کو کبھی کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔