مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انتخابات ترمیمی بل 2017ءاور ختمِ نبوت سے متعلق حلف نامہ اصل شکل میں بحال
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں انتخابات ترمیمی بل 2017ء متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔ انتخابات میں ترمیم کا بل وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا۔ انتخابات ترمیمی بل 2017ء کے اہم نکات کے تحت قادیانی، احمدی یا لاہوری گروپ کا آئین میں درج سٹیٹس برقرار رہے گا جبکہ ختمِ نبوت کے حوالے سے حلف نامہ اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔بل میں ختمِ نبوت کے حوالے سے انگریزی اور اردو میں حلف نامے شامل کر دیے گئے ہیں۔ ترمیمی بل کی منظوری کے دوران شیخ رشید نے وفاقی وزیر قانون کی وضاحت پر شور شرابا شروع کر دیا جس پر سپیکر نے ان کا مائیک بند کر دیا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر قانون زاہد حامد سے کوئی وضاحت نہیں مانگی تو یہ کیوں دے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابات ترمیمی بل 2017ء متفقہ طور پر منظور اور ختمِ نبوت ﷺ کے حوالے سے حلف نامہ اصل شکل میں بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ بل وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔اسمبلی سے خطاب میں وزیرِ قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ 2002ء کے عام انتخابات سے قبل نہ صرف نشستوں میں اضافہ کیا گیا بلکہ مشترکہ انتخاب کی بھی منظوری دی گئی۔ اس بل میں قادیانی، لاہوری گروپ اور احمدی کا وہی سٹیٹس وہی رہے گا جو آئین میں درج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ختمِ نبوت کے حلف کے تحت 10 روز میں حلف نامہ جمع کرانا لازمی تھا، تاہم میری تجویز تھی کہ 10 دن کی شق کو ختم کر دیا جائے۔ اس شق کو اصل صورت میں بحال کرنے کی بات کی تھی۔ تمام جماعتیں اب اس بات پر متفق ہیں کہ اس شق کو اصل صورت میں بحال کر دیا جائے جبکہ سیون سی اور سیون بی کے الفاظ وہی ہیں جو پہلے تھے۔ وزیر قانون کا کہنا تھا کہ اب دونوں حلف نامے انتخابی ایکٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔وزیرِ قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ میں ختمِ نبوت ﷺ پر یقین رکھتا ہوں اور میں اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میرے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا۔ مجھے اپنے حلقے کے لئے ایک ویڈیو بھی جاری کرنی پڑی۔ میں اور میری فیملی ﷺ کی حرمت کے لئے جانیں بھی قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس موقع پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے اجلاس کے دوران اپنی نشت پر کھڑے ہو کر شور مچانا شروع کر دیا اور کہا کہ کسی رکن اسمبلی نے وزیرِ قانون زاہد حامد سے وضاحت نہیں مانگی تو یہ کیوں دے رہے ہیں۔ بتایا جائے غلطی کس سے ہوئی۔ ناموس رسالت ﷺ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی سفارشات اسمبلی میں رکھی جائیں۔ شیخ رشید کے شور شرابا کرنے پر سپیکر نے ان کا مائیک بند کر دیا۔