مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مشرف کا نئے سیاسی اتحاد کا اعلان ، پی ایس پی، ایم کیو ایم کو شمولیت کی دعوت
کراچی: سابق صدر پرویز مشرف نے مہاجروں اور ان کی جماعتوں کو اپنے اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے اجلاس سے آڈیو خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہاجروں کو اکھٹا ہونا چاہیے۔ ہم جو اتحاد بنا رہے ہیں اس میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو شریک ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔اپنے خطاب میں مشرف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بدنام ترین ہے اور مہاجر برادری بھی بدنام ہو رہی ہے۔ مہاجروں کو سب کچھ چھوڑ کر پاکستانی بننا ہو گا۔ ہم اکھٹے ہونا چاہتے ہیں اور ایک نام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مہاجر نام چھوڑ کر اپنے آپ کو پاکستانی کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے بہت سے لوگ علیحدہ ہو رہے ہیں۔ نئی سیاسی قوت بننے جا رہی ہے۔ اگر ہم دل اور دماغ سے کام لیں تو ہم دوسروں کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مشرف کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہیٰ نے میرا ساتھ دیا اور پنجاب حکومت کو اچھے طریقے سے چلایا۔ مجھے امید ہے کہ ق لیگ اس اتحاد کا ساتھ دے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ بہت جلد پاکستان آئیں گے۔ اپنے آڈیو خطاب میں سابق صدر نے بتایا کہ میں پاکستان عوامی اتحاد کا چیئرمین ہوں۔ ایف سکس میں اس اتحاد کا دفتر بنایا گیا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے معاملے میں ہر مرتبہ میرا نام آ جاتا ہے۔ میں پاگل ہی ہوں گا کہ ایم کیو ایم کا سربراہ بن جاؤں اور فاروق ستار کی جگہ میں لے لوں، ایسا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف جو مقدمات ہیں ان کا سامنا کرنا ہو گا۔ پہلے عدالتوں کے پیچھے سابق وزیر اعظم نواز شریف تھے لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب نواز شریف کا سیاسی مستقبل زیروہو چکا ہے۔ مشرف الیکشن جلد کرانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حالات اگر ٹھیک نہیں ہوتے تو قبل از وقت انتخابات کی حمایت ہونے چاہیے۔