مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مشرف کا نئے سیاسی اتحاد کا اعلان ، پی ایس پی، ایم کیو ایم کو شمولیت کی دعوت
کراچی: سابق صدر پرویز مشرف نے مہاجروں اور ان کی جماعتوں کو اپنے اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے اجلاس سے آڈیو خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہاجروں کو اکھٹا ہونا چاہیے۔ ہم جو اتحاد بنا رہے ہیں اس میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو شریک ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔اپنے خطاب میں مشرف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بدنام ترین ہے اور مہاجر برادری بھی بدنام ہو رہی ہے۔ مہاجروں کو سب کچھ چھوڑ کر پاکستانی بننا ہو گا۔ ہم اکھٹے ہونا چاہتے ہیں اور ایک نام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مہاجر نام چھوڑ کر اپنے آپ کو پاکستانی کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے بہت سے لوگ علیحدہ ہو رہے ہیں۔ نئی سیاسی قوت بننے جا رہی ہے۔ اگر ہم دل اور دماغ سے کام لیں تو ہم دوسروں کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مشرف کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہیٰ نے میرا ساتھ دیا اور پنجاب حکومت کو اچھے طریقے سے چلایا۔ مجھے امید ہے کہ ق لیگ اس اتحاد کا ساتھ دے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ بہت جلد پاکستان آئیں گے۔ اپنے آڈیو خطاب میں سابق صدر نے بتایا کہ میں پاکستان عوامی اتحاد کا چیئرمین ہوں۔ ایف سکس میں اس اتحاد کا دفتر بنایا گیا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے معاملے میں ہر مرتبہ میرا نام آ جاتا ہے۔ میں پاگل ہی ہوں گا کہ ایم کیو ایم کا سربراہ بن جاؤں اور فاروق ستار کی جگہ میں لے لوں، ایسا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف جو مقدمات ہیں ان کا سامنا کرنا ہو گا۔ پہلے عدالتوں کے پیچھے سابق وزیر اعظم نواز شریف تھے لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب نواز شریف کا سیاسی مستقبل زیروہو چکا ہے۔ مشرف الیکشن جلد کرانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حالات اگر ٹھیک نہیں ہوتے تو قبل از وقت انتخابات کی حمایت ہونے چاہیے۔