مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مشرف کا نئے سیاسی اتحاد کا اعلان ، پی ایس پی، ایم کیو ایم کو شمولیت کی دعوت
کراچی: سابق صدر پرویز مشرف نے مہاجروں اور ان کی جماعتوں کو اپنے اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دے دی ہے۔ آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے اجلاس سے آڈیو خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مہاجروں کو اکھٹا ہونا چاہیے۔ ہم جو اتحاد بنا رہے ہیں اس میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو شریک ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔اپنے خطاب میں مشرف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم بدنام ترین ہے اور مہاجر برادری بھی بدنام ہو رہی ہے۔ مہاجروں کو سب کچھ چھوڑ کر پاکستانی بننا ہو گا۔ ہم اکھٹے ہونا چاہتے ہیں اور ایک نام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مہاجر نام چھوڑ کر اپنے آپ کو پاکستانی کہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے بہت سے لوگ علیحدہ ہو رہے ہیں۔ نئی سیاسی قوت بننے جا رہی ہے۔ اگر ہم دل اور دماغ سے کام لیں تو ہم دوسروں کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مشرف کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الہیٰ نے میرا ساتھ دیا اور پنجاب حکومت کو اچھے طریقے سے چلایا۔ مجھے امید ہے کہ ق لیگ اس اتحاد کا ساتھ دے گی۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ بہت جلد پاکستان آئیں گے۔ اپنے آڈیو خطاب میں سابق صدر نے بتایا کہ میں پاکستان عوامی اتحاد کا چیئرمین ہوں۔ ایف سکس میں اس اتحاد کا دفتر بنایا گیا ہے۔سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے معاملے میں ہر مرتبہ میرا نام آ جاتا ہے۔ میں پاگل ہی ہوں گا کہ ایم کیو ایم کا سربراہ بن جاؤں اور فاروق ستار کی جگہ میں لے لوں، ایسا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف جو مقدمات ہیں ان کا سامنا کرنا ہو گا۔ پہلے عدالتوں کے پیچھے سابق وزیر اعظم نواز شریف تھے لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب نواز شریف کا سیاسی مستقبل زیروہو چکا ہے۔ مشرف الیکشن جلد کرانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی حالات اگر ٹھیک نہیں ہوتے تو قبل از وقت انتخابات کی حمایت ہونے چاہیے۔