مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ايسٹرن پویلین ہال اولڈھم میں ڈاکٹر محمدبھاءالدين کے اعزاز میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد
اولڈہم:خادم العلم والعلماء مولانا شفیق الرحمن شاہین ابن مولانا عبد الرزاق مسعود نے مؤرخ اہلحدیث، محسن جماعت و ملت ڈاکٹر محمد بھاءالدين( محمد سليمان اظهر ) صاحب حفظه الله کے اعزاز اور ان کی عظیم خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے لئے اپنے علاقہ کے علماء و خواص کی ایک پروقار تقریب ايسٹرن پویلین ہال اولڈھم میں منعقد کی۔ قاری عطاءالرحمن کی تلاوت کے بعد مولانا عبد الستار عاصم نے اجلاس کی مناسبت سے نظم پیش کی۔ میزبان تقریب مولانا شفیق الرحمن شاہین نے پر جوش استقبالی کلمات پیش کئے بعد ازاں ڈاکٹر محمد بھاءالدين کے معاون خاص مولانا شیرخان جمیل احمد عمری کو دعوت دی گئی کہ انہوں نے ان کے عالمی شہرت یافتہ پروجیکٹز “ تحریک ختم نبوت” اور “ تاریخ اہلحدیث “ کا تعارفى خاکہ پیش کریں چنانچہ مولانا شیرخان جمیل نے ڈاکٹر بہا الدین کی مختصر سوانحی خاکہ پیش کرکے آپ کے دونوں پروجیکٹز کا جامع انداز میں تعارف کروایا اور ڈاکٹر کی اس منفرد خدمت کے فائدے اور عالمی پیمانے پر اس کی شہرت اور اثرات کو بمصداقِ قول رسول صلی الله عليه وسلم " يوضع له القبول فى الارض"کی روشن مثال قرار دیا نیز آپ نے بطور مثال استاد الأساتذة، اڈیٹر ماھنامہ محدث بنارس مولانا ابو القاسم فاروقى کے ایک جامع تجزیہ کو بھی پیش کیا جس سے ڈاکٹر صاحب کے کام کی اہمیت کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ آپ کے بعد مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد بھاءالدين نے اظہار خیال کرتے ہوئے نہایت جامع و مانع انداز میں تحریک نبوت کی تاریخ مرتب کرنے کے اسباب بیان کئے، پھر آپ نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کی ابتداء دو صفحوں سے شروع ہوکر اب پچاس ہزار صفحوں پر پھیل گئی ہے آگے یہ کام کہاں تک جائے گا اس کا علم الله ہی کو ہے پھر آپ نے بتایا کہ: "الله تعالى نے مجھے ممبر و محراب سے وابستہ ذمہ داریاں سونپنے کی بجائے حضور سرور کونین صلی الله عليه وسلم کی چوکھٹ کی جانب معاندانہ عزائم سے بڑھنے والوں کی راہ میں سد سکندری تعمیر کرنے والوں کی کاوشوں کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ و مرتب کردینے کے کام پر لگا رکھا ہے۔ اس خدمت کے لئے الله تعالى نے مجھے وقت بھی عطا فرمایا ہے، فرصت بھی اور موضوع سے کما حقہ واقفیت بھی اور ہمت و استقلال بھی۔ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء۔آپ نے دو ٹوک انداز میں یہ بھی کہا کہ “ یہ کام ایک انفرادی کوشش ہے جو الله اپنے فضل ورحمت سے لے رہا ہے. انشاءاللہ بہت جلد مکمل تقریر کی ویڈیو بھی جلد منظر عام پر آجائےگی۔ انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں اپنے معاون خاص مولانا شیرخان جمیل احمد کو ان کے کئی سالوں پر محیط جاری حسن تعاون کا خوبصورت الفاظ میں تذکرہ کرتے ہوئے انہیں “وحید عصر “ کا خطاب بھی دیا جبکہ میزبان تقریب مولانا شفیق الرحمن شاهين کا شکریہ ادا کرتے ہوئے روہانسی ہوگئے اور فرمایا کہ آپ نے دو مرتبہ میرے اعزاز میں تقریب منعقد کرکے مجھے حوصلہ بخشا اور آپ تمام سے ملنے کا موقعہ مرحمت فرمایا، انہوں نے حاضرین کو بتایا کہ میرا ان سے اور ان کے والد بزرگوار مولانا عبد الرزاق مسعود صاحب سے تعلقِ خاطر ہے، الله انہیں جزائے خیر دے۔ اس اجلاس کی کرسئ صدارت مولانا حافظ حمود الرحمن مکی کے حصہ میں آئی جبکہ اجلاس کی نظامت حافظ شریف الله شاہد نے کی۔ اختتام تقریب میں ڈاکٹر بہاءالدين صاحب کو میزبان تقریب مولانا شفیق الرحمن شاہین نے یادگاری شیلڈ پیش کی، اسی طرح موقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مرکز اُم القری بریڈفورڈ کی طرف سے حافظ شریف الله نے یادگاری سند دی جبکہ صدر تقریب حافظ حمود الرحمن اور مولانا عبد الستار عاصم نے بھی الگ الگ بکسوں کی شکل میں تحفے پیش کئے۔ آخر میں پرتکلف عشائیہ سے مہمانوں کی تکریم کی گئی۔ خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر