مقبول خبریں
سیریا ریلیف کی چیئر پرسن ڈاکٹر شمیلہ کی طرف سے چیرٹی بر نچ کا اہتمام ، کمیونٹی خواتین کی شرکت
مسئلہ کشمیر بارےیورپی پارلیمنٹ انتخابات پر برطانیہ و یورپ میں بھرپور لابی مہم چلائینگے،راجہ نجابت
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
سرچ آپریشن
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر میں3نوجوانوں کی شہادت کے خلاف ہڑتال،شدید مظاہرے
سرینگر :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں تین نوجوانوں کی شہادت پر پلوامہ میں مکمل ہڑتال کی گئی، ضلع میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدو رفت معطل تھی۔ قابض انتظامیہ نے بھارت مخالف مظاہرے روکنے کیلئے ضلع میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں۔ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ رات ضلع پلوامہ کے علاقے اگلر کنڈی میں محاصرے اور تلاشی کی ایک کارروائی کے دوران تین نوجوانوں کو شہیدکردیا تھا۔ نوجوانوں کی شہادت پر علاقے میں زبردست احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ بھارتی پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ نوجوان بھارتی فوجیوں کیساتھ ایک جھڑپ میں مارے گئے اور مرنے والوں میں مولانا مسعود اظہر کا بھتیجا طلحہ رشید بھی شامل ہے ۔ اس سے پہلے اسی علاقے میں ایک فوجی ورہما پال سنگھ ہلاک ہوگیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کالعدم جیش محمد کے ترجمان نے اپنے بیان میں بھارتی فوج کیساتھ جھڑپ میں مسعود اظہر کے بھتیجے طلحہ راشد کے شہید ہونے کی تصدیق کی جبکہ شہید ہونیوالے دیگر نوجوانوں کی جماعت کے ڈویژنل کمانڈر محمد بھائی اور وسیم کے ناموں سے شناخت ظاہر کی گئی ۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا طلحہ رشید کے مارے جانے کی خبر سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عسکریت پسندوں کو سرحد پار سے مدد مل رہی ہے ۔دریں اثنا اڑی میں اتوار کو کمل کوٹ سیکٹر میں جاں بحق کئے گئے دو عدم شناخت جنگجوؤں کو قصبہ میں ٹی وی ٹاور کے نزدیک سپرد خاک کیا گیا،اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ادھر مشن کشمیر کے تحت بھارتی حکومت کے مذاکرات کار برائے جموں وکشمیر دنیشورشرما نے مقبوضہ کشمیر میں ملاقاتیں شروع کردیں، جبکہ حریت کانفرنس نے انکشاف کیا ہے کہ کشمیر بارے بھارتی مذاکرات کار سے بات چیت کیلئے علی گیلانی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ بھارت کا ایک سرکاری نمائندہ حریت چیئرمین سے ملاقات کیلئے ان کی رہائشگاہ آیا تاہم حریت کانفرنس نے کہا اس طرح کے جبری مذاکرات کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں ہوسکتا۔