مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کتے کی دم !!
کتے کی دم بہت سے حوالوں سے مشہور ہے کبھی اس کے سیدھے نہ ہونے پر اعتراض کیا جاتا ہے تو کبھی ہلنے پر لیکن کبھی کسی نے اس کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اب اٹلی کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے اعصابی سائنس داں پروفیسر جارجيو ویلورٹگارا نے اس بارے میں کہا ہےکہ انسانوں میں دماغ کا داياں اور بایاں حصہ فرطِ جذبات میں مختلف کردار ادا کرتا ہے جس سے مثبت اور منفی احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ہم نے دوسرے جانداروں میں بھی یہی جاننے کی کوشش کی ہے۔ اس نئی تحقیق کی بنیاد پر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کتے اپنے ساتھی کتے کے دم ہلانے کے اس فرق کو پہچان کر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی خوش ہوتے ہیں تو وہ اپنی دم دائیں طرف زیادہ ہلاتے ہیں اور جب پریشان ہوتے ہیں تو وہ اپنی دم زیادہ تر بائيں جانب ہلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ انسانوں کی طرح ہی کتوں میں بھی دماغ کا بایاں حصہ دائیں طرف ہونے والی ہلچل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے اور دماغ کے دونوں حصے احساسات کے اظہار میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے کسی کتے کی ٹیڑھی دم پر دوسرے کتے کے ردعمل کو جاننے کے لیے جانوروں کی نگرانی کی اور پالتو کتوں کو دوسرے کتوں کی فلمیں بھی دکھائیں۔ انھوں نے کہاجب کتوں نے احساس سے عاری کسی کتے کو اپنی دم دائیں جانب ہلاتے دیکھا تو وہ پوری طرح مطمئن کھڑے رہے۔ لیکن جیسے ہی کتوں نے بائیں جانب دم ہلانے والے کتے کو دیکھا تو ان کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی اور وہ فکر مند ہو گئے۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ کتوں نے اپنے تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ انہیں کون سی حرکت پر فکرمند ہونا چاہیے اور کون سی حرکت پر نہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج کتوں کے مالکان، ڈاکٹروں اور کتوں کو تربیت دینے والوں کو ان کے جذبات و احساسات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں امداد فراہم کریں گے۔