مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کتے کی دم !!
کتے کی دم بہت سے حوالوں سے مشہور ہے کبھی اس کے سیدھے نہ ہونے پر اعتراض کیا جاتا ہے تو کبھی ہلنے پر لیکن کبھی کسی نے اس کے پیچھے چھپی حقیقت جاننے کی کوشش نہیں کی۔ اب اٹلی کی ٹورنٹو یونیورسٹی کے اعصابی سائنس داں پروفیسر جارجيو ویلورٹگارا نے اس بارے میں کہا ہےکہ انسانوں میں دماغ کا داياں اور بایاں حصہ فرطِ جذبات میں مختلف کردار ادا کرتا ہے جس سے مثبت اور منفی احساسات پیدا ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ہم نے دوسرے جانداروں میں بھی یہی جاننے کی کوشش کی ہے۔ اس نئی تحقیق کی بنیاد پر سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ کتے اپنے ساتھی کتے کے دم ہلانے کے اس فرق کو پہچان کر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی خوش ہوتے ہیں تو وہ اپنی دم دائیں طرف زیادہ ہلاتے ہیں اور جب پریشان ہوتے ہیں تو وہ اپنی دم زیادہ تر بائيں جانب ہلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ انسانوں کی طرح ہی کتوں میں بھی دماغ کا بایاں حصہ دائیں طرف ہونے والی ہلچل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے اور دماغ کے دونوں حصے احساسات کے اظہار میں مختلف کردار ادا کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے کسی کتے کی ٹیڑھی دم پر دوسرے کتے کے ردعمل کو جاننے کے لیے جانوروں کی نگرانی کی اور پالتو کتوں کو دوسرے کتوں کی فلمیں بھی دکھائیں۔ انھوں نے کہاجب کتوں نے احساس سے عاری کسی کتے کو اپنی دم دائیں جانب ہلاتے دیکھا تو وہ پوری طرح مطمئن کھڑے رہے۔ لیکن جیسے ہی کتوں نے بائیں جانب دم ہلانے والے کتے کو دیکھا تو ان کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی اور وہ فکر مند ہو گئے۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ کتوں نے اپنے تجربات سے یہ سیکھا ہے کہ انہیں کون سی حرکت پر فکرمند ہونا چاہیے اور کون سی حرکت پر نہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج کتوں کے مالکان، ڈاکٹروں اور کتوں کو تربیت دینے والوں کو ان کے جذبات و احساسات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے میں امداد فراہم کریں گے۔