مقبول خبریں
راچڈیل کیسلمئیرسنٹر میں کمیونٹی کو صحت مند رہنے،حفاظتی تدابیر بارے آگاہی ورکشاپ کا انعقاد
یورپی پارلیمنٹ میں قائم ’’فرینڈز آف کشمیر گروپ‘‘ کی تنظیم سازی کردی گئی
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
ہم نے سچ کو دیکھا ہے جھوٹ کے جھروکوں سے!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت میں سوئس جوڑے پر ہندو انتہا پسندوں کا حملہ،شدید تشدد کا نشانہ بنایا
آگرہ: دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ملک ہونے کے دعویدار ملک ہندوستان میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ناروا سلوک کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ شرپسندوں نے آگرہ کے تاریخی مقامات کی سیر کو آئے سوئس جوڑے کو صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنا دیا کیونکہ انہوں نے ان کے ساتھ سیلفی لینے سے انکار کیا تھا۔ ہندو انتہا پسندوں نے ناصرف سوئس خاتون اور مرد کو زدوکوب کیا بلکہ انھیں پتھر بھی مارے جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ یہ سوئس جوڑا گزشتہ ماہ 30 ستمبر کو سیاحت کیلئے انڈیا کے دورے پر آیا تھا۔اس سوئس جوڑے کا نام میری دروز اور كيونٹين جرمی كلارک بتایا جا رہا ہے۔ حملے کے بعد خون سے لت پت یہ جوڑا راہگیروں سے مدد کی اپیل کرتے رہے لیکن لوگ ویڈیو بناتے رہے اور کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ دونوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ پولیس نے ابھی تک ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے سوئس جوڑے پر کے ساتھ ناروا سلوک پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے پورے معاملہ میں رپورٹ مانگی ہے۔ وزیرِ خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اس معاملہ کی ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔