مقبول خبریں
سیرت النبیؐ کے پیغام کو دنیا بھر میں پہنچانے کے لئے میڈیا کا کردار اہم ہے:پیر ابو احمد
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بھارت میں سوئس جوڑے پر ہندو انتہا پسندوں کا حملہ،شدید تشدد کا نشانہ بنایا
آگرہ: دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ملک ہونے کے دعویدار ملک ہندوستان میں غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ناروا سلوک کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ شرپسندوں نے آگرہ کے تاریخی مقامات کی سیر کو آئے سوئس جوڑے کو صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنا دیا کیونکہ انہوں نے ان کے ساتھ سیلفی لینے سے انکار کیا تھا۔ ہندو انتہا پسندوں نے ناصرف سوئس خاتون اور مرد کو زدوکوب کیا بلکہ انھیں پتھر بھی مارے جس سے دونوں شدید زخمی ہو گئے۔ یہ سوئس جوڑا گزشتہ ماہ 30 ستمبر کو سیاحت کیلئے انڈیا کے دورے پر آیا تھا۔اس سوئس جوڑے کا نام میری دروز اور كيونٹين جرمی كلارک بتایا جا رہا ہے۔ حملے کے بعد خون سے لت پت یہ جوڑا راہگیروں سے مدد کی اپیل کرتے رہے لیکن لوگ ویڈیو بناتے رہے اور کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ دونوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے جہاں انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ پولیس نے ابھی تک ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔انڈین وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے سوئس جوڑے پر کے ساتھ ناروا سلوک پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت سے پورے معاملہ میں رپورٹ مانگی ہے۔ وزیرِ خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اس معاملہ کی ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔