مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
گلوکاری کو پیشہ بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے:نوجوان گلوکار محمد نفیس
مانچسٹر:برطانوی معاشرے میں بسنے والے پاکستانیوں کو اپنی نوجوان نسل کو مادری زبان سے جڑے رہنے کیلئے اس کی تعلیم و تربیت دینی چاہئے اس سے انہیں اپنائیت کا احساس بھی ہو گا اور وہ بہتر انداز سے گفت و شنید بھی کر سکیں گے،اسی طرح موسیقی جو کہ برصغیر کی پہچان ہے اس کے فروغ کیلئے نوجوان نسل جو اس کی شوقین ہے انہیں سننے اور گلوکاری کے شعبہ کو پیشہ بنانے کیلئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے کیونکہ یہ ایشیائی ثقافت کا بنیادی عنصر ہے،ان خیالات کا اظہار برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نژاد نوجوان گلوکار محمد نفیس نے میڈیا نمائندگان کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے موقع پر کیا،انہوں نے مزید کہا جب وہ اسٹیج پر براہ راست پرفارم کر رہے ہوتے ہیں اور نوجوانوں کو خوشی سے اچھلتا کودتا دیکھتے ہیں تو دلی اطمینان کے ساتھ خوشی بھی ہوتی ہے اور جس طرح وہ ہم سے محبت و پیار سے ملتے ہیں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ میوزک اور گلوکاری کیلئے انہیں سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ روزانہ ’’ریاض ‘‘ کے بغیر گلوکاری ممکن نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستانی جو کہ برطانیہ کے بھی شہری ہیں اس معاشرے کے تمام شعبہ جات میں نمایاں کارنامے سر انجام دے رہے ہیں یہ سب کچھ ہمارے بزرگوں کی انتھک لگن اور محنت کی بدولت ہمیں ملا ہے ہمیں برطانیہ کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہئے،انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو پاکستان کی ثقافت،تاریخی ورثہ بارے بتایا تو ہی مستقبل میں یہی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں،مانچسٹر ایرینا میں دہشت گردی کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ جو لوگ خود کش حملوں میں ملوث ہیں اسلام سے انکا کوئی واسطہ نہیں ہے ہمارا مذہب محبت،امن،صلح جوئی اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر رہنے اور احترام کا درس دیتا ہے اس میں مرتکب افراد عالم کیلئے بد نما دھبہ ہیں،انہوں نے کہا کہ والدین پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے برطانیہ آئے ہمیں تعلیم دلوائی اور آج جس مقام پر ہوں انہی کی محنت کا شاخسانہ ہے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر