مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
گلوکاری کو پیشہ بنانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے:نوجوان گلوکار محمد نفیس
مانچسٹر:برطانوی معاشرے میں بسنے والے پاکستانیوں کو اپنی نوجوان نسل کو مادری زبان سے جڑے رہنے کیلئے اس کی تعلیم و تربیت دینی چاہئے اس سے انہیں اپنائیت کا احساس بھی ہو گا اور وہ بہتر انداز سے گفت و شنید بھی کر سکیں گے،اسی طرح موسیقی جو کہ برصغیر کی پہچان ہے اس کے فروغ کیلئے نوجوان نسل جو اس کی شوقین ہے انہیں سننے اور گلوکاری کے شعبہ کو پیشہ بنانے کیلئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے کیونکہ یہ ایشیائی ثقافت کا بنیادی عنصر ہے،ان خیالات کا اظہار برطانیہ میں بسنے والے پاکستانی نژاد نوجوان گلوکار محمد نفیس نے میڈیا نمائندگان کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے موقع پر کیا،انہوں نے مزید کہا جب وہ اسٹیج پر براہ راست پرفارم کر رہے ہوتے ہیں اور نوجوانوں کو خوشی سے اچھلتا کودتا دیکھتے ہیں تو دلی اطمینان کے ساتھ خوشی بھی ہوتی ہے اور جس طرح وہ ہم سے محبت و پیار سے ملتے ہیں اپنائیت کا احساس ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ میوزک اور گلوکاری کیلئے انہیں سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ روزانہ ’’ریاض ‘‘ کے بغیر گلوکاری ممکن نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستانی جو کہ برطانیہ کے بھی شہری ہیں اس معاشرے کے تمام شعبہ جات میں نمایاں کارنامے سر انجام دے رہے ہیں یہ سب کچھ ہمارے بزرگوں کی انتھک لگن اور محنت کی بدولت ہمیں ملا ہے ہمیں برطانیہ کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہئے،انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو پاکستان کی ثقافت،تاریخی ورثہ بارے بتایا تو ہی مستقبل میں یہی پاکستان کی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں،مانچسٹر ایرینا میں دہشت گردی کے حوالہ سے انہوں نے بتایا کہ جو لوگ خود کش حملوں میں ملوث ہیں اسلام سے انکا کوئی واسطہ نہیں ہے ہمارا مذہب محبت،امن،صلح جوئی اور ایک دوسرے کے ساتھ ملکر رہنے اور احترام کا درس دیتا ہے اس میں مرتکب افراد عالم کیلئے بد نما دھبہ ہیں،انہوں نے کہا کہ والدین پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے برطانیہ آئے ہمیں تعلیم دلوائی اور آج جس مقام پر ہوں انہی کی محنت کا شاخسانہ ہے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر