مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
پاکستان کے بغیر مذاکرات نہیں ہو سکتے،حریت قیادت نے بھارتی پیشکش مسترد کر دی
سرینگر: کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے جمعے کو یوم سیاہ منانے کی اپیل کردی،حریت رہنمائوں سید علی گیلانی،میر واعظ،یاسین ملک نے کہا کہ پاکستان مسئلے کا اہم فریق ،اس کی بات چیت میں شمولیت پہلی شرط ہے ،مولوی عباس انصاری نے کہا کہ پاکستان کے بغیر مقبوضہ کشمیر پر مذاکرات نہیں ہوسکتے ،یاد رہے کہ بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کشمیریوں سے مذاکرات کا اعلان کرتے ہوئے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو مذاکرات کار مقرر کیا تھا۔دنیشور شرما 8 سے 10 روز میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کریں گے ۔ادھر پاکستان نے بھارت کی طرف سے سابق اعلیٰ انٹیلی جنس افسر دنیشور کو کشمیریوں کے ساتھ رابطہ کار مقرر کرنے کے اقدام کو غیر مخلصانہ اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت قیادت اور پاکستان کی شمولیت کے بغیر کسی مذاکراتی عمل کی کوئی اہمیت نہیں۔منگل کی شام جاری کئے دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارتی اعلان سے صرف ایک بات واضح ہوئی ہے کہ مذاکرات ناگزیر ہیں اور طاقت کے استعمال سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کسی بھی مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز اور بامقصد بنانے کیلئے مذاکرات میں تین بڑے فریقوں، کشمیری عوام، پاکستان ا ور بھارت کی شمولیت لازمی ہے ۔ حریت رہنمائوں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف جمعہ 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منانے کی اپیل کی ہے ۔ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج نے جموں و کشمیر پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا۔ادھر مذاکرات کی پیش کش پر بھارت کے اندر سے بھی ملاجلا ردعمل دیکھنے کو ملاہے ،سابق وزیر داخلہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدم برم نے کہا ہے کہ بھارت کا مذاکرات کا اعلان بی جے پی کی جارحانہ پالیسی کی شکست ہے ۔مودی سرکار نے تسلیم کر لیا مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا استعمال ناکام اور مسئلے کا حل بات چیت ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار کی طرف سے تمام فریقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر میں فریقین بات چیت میں شامل ہونے کا موقع حاصل کریں۔ انہوں نے کہاکہ لوگ تشدد سے تنگ آچکے ہیں، یہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کا موزوں وقت ہے ۔مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہاکہ آخر کار دلی والوں کو کشمیر مسئلے کی سیاسی نوعیت کااعتراف کرناپڑا،انہوں نے کہا کہ یہ ان لوگوں کی واضح شکست ہے جوصرف طاقت کے استعمال کومسائل کے حل کاذریعہ مانتے آئے ہیں۔