مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
5 گھنٹے تک جتن کرنے والے شرجیل میمن 11 ساتھیوں سمیت گرفتار
کراچی: سندھ ہائیکورٹ سے مایوس ہونے کے باوجود بھی جیالے رہنماء گرفتاری نہ دینے پر مصر رہے اور احاطہ عدالت سے باہر نہ نکلے۔ شرجیل میمن ساڑھے پانچ گھنٹے تک سندھ ہائیکورٹ کی عمارت کے اندر اپنے وکلاء اور سندھ کابینہ کے متعدد ارکان کے ہمراہ موجود رہے۔ اس دوران ان کے وکلاء نیب عدالت بھی گئے اور درخواست کی کہ انہیں نیب آفس کی بجائے جیل منتقل کر دیا جائے لیکن نیب عدالت کے جج نے بھی سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے کا حکم دے کر درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ شرجیل میمن کے مایوس وکلاء تقریباً پونے چار بجے سندھ ہائیکورٹ واپس پہنچے اور اپنے مؤکل کو ناکامی کی خبر سنائی لیکن جیالے رہنماء پھر بھی مزید ڈیڑھ گھنٹہ تک اندر ہی دبکے رہے اور وکلاء اور ساتھیوں سے مشاورت میں مصروف رہے۔ سگریٹ پیتے رہے، پانی پیتے رہے، لمبی لمبی آہیں بھرتے رہے اور فون پر ارباب اختیار سے رابطے کرتے رہے لیکن کوئی امید بر نہ آئی۔ جیالے رہنماء قانون کے شکنجے میں ایسے پھنسے کہ ان کا کہیں بس نہ چلا۔ نیب حکام مسلسل سندھ ہائیکورٹ کے باہر شرجیل میمن کے منتظر رہے۔ نیب کی مختصر ٹیم کو رینجرز کے جوانوں کی بھاری نفری کی مدد بھی حاصل تھیں جنہیں نیب حکام نے خود اپنی مدد کیلئے بلایا تھا۔بالآخر تقریباً سوا پانچ بجے شرجیل میمن سندھ ہائیکورٹ سے باہر آئے جہاں ان کے وکلاء پھر نیب والوں سے الجھ پڑے اور شدید نعرے بازی کرتے رہے یہاں تک کہ نوبت ہاتھا پائی اور دھکم پیل تک پہنچ گئی جس کے دوران جیالے رہنماء اور کئی وکلاء کے کپڑے پھٹ گئے، متعدد لوگ بھیڑ میں زخمی ہو گئے۔ ناخنوں اور خراشوں کے نشانات جیالے رہنماء کے جسم پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ لڑائی کے دوران متعدد خواتین وکلاء بھی گر پڑیں اور لوگ ان کے اوپر سے پھلانگتے رہے۔ ایک طویل اور سنسنی خیز ڈرامے کے بعد بالآخر شرجیل انعام میمن اور ان کے چار ساتھی گرفتار ہو گئے اور رینجرز حکام انہیں سفید لینڈ کروزر میں بٹھا کر ہجوم میں سے آہستہ آہستہ نکلتے ہوئے نیب کے دفتر کی جانب روانہ ہو گئے جہاں امکان ہے کہ شرجیل میمن آج کی رات گزارنے کے بعد کل صبح نیب عدالت کے روبر پیش ہوں گے۔