مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکی ڈرون حملے سے اہم طالبان کمانڈر حکیم اللہ محسود ہلاک ، طالبان ذرائع کی تصدیق ..!!
اسلام آباد ... بظاہر دہشت گردی کے خلاف لیکن اصل میں اپنی بقا، سلامتی اور استحکام کی جنگ میں پاکستان دشمنوں کی نظر میں کتنا کھٹکتا ہے اس کا واضع ثبوت موجودہ حالات میں ہی پنہاں ہے۔ ابھی پاکستانی وزیر اعظم دورہ برطانیہ میں طالبان سے بات چیت کی تصدیق کرکے واپس وطن نہیں پہنچے کہ ایک حملے میں طالبان کے اہم کمانڈر حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کی اطلاع نے مزاکرات تو خطرے میں ڈال ہی دئے ہیں شمالی وزیرستان کا علاقہ جہاں پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جونوں کے نذرانے پیش کرکے امن قائم کیا تھا لوگوں کو یہ کہہ کر نقل مکانی پر اکسانے کا عمل شروع ہو گیا ہے کہ وہ اپنی قیمتی اشیا لیکر وہاں سے نکل جایئں حالات خراب ہونے جا رہے ہیں۔ معروف عالمی نیوز ایجنسی رائیٹرز نے نے بھی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ حکیم اللہ محسود شمالی وزیرستان میں مسلح تحریک کو جاری رکھے ہوئے تھا۔ حملے کا مقام میران شاہ کے قریب واقع ایک بڑا گاؤں ڈانڈا درپے خیل تھا۔ کل چار میزائل داغے گئے۔ ڈانڈا دارپے خیل کا جو مکان تباہ ہوا، وہ حکیم اللہ محسود کے زیراستعمال تھا۔ چار مختلف سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملے میں طالبان لیڈر کا قریبی محافظ اور ڈرائیور بھی مارا گیا۔ امریکا نے حکیم اللہ محسود کے سر کی قیمت پانچ ملین ڈالر رکھی ہوئی تھی۔ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے ایک اہم کمانڈر کے مارے جانے کی اطلاع کیا آئی ہے دنیا میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقی ڈانڈے درپاخیل میں آج ڈرون حملے میں جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے،اس حوالے سے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ گاڑی حکیم اللہ محسود کے زیر استعمال رہتی تھی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈانڈے درپاخیل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا مرکز ہے،اور اسکا سربراہ حکیم اللہ محسود کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکز آتا رہتا تھا۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کو امن مذاکرات کے سلسلے میں طالبان کے پاس ایک وفد بھیجا جانا تھا۔ ادھر حالات کے پیش نظر ضلع پشاور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔دفعہ 144 کے تحت قابل اعتراض تحریری مواد کی تقسیم اور وال چاکنگ اور لاوڈ اسپیکر کے استعمال پر پاپندی عائد ہوگی۔ چوہدری نثار علی خان نے آج ہونے والے ڈرون حملے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حملہ امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنیکی سازش ہے ہم طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینے کیلئے 3رکنی وفد بھیجنے والے تھے، انکا کہنا تھا کہ حملے کے بارے میں ابھی مزید رپورٹس آنا باقی ہیں۔