مقبول خبریں
پاکستان کا دورہ انتہائی کامیاب رہا ،ممبر برطانوی پارلیمنٹ ٹونی لائیڈ و دیگر کی پریس کانفرنس
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
احتساب کرنا نیب کا کام ہے لیکن نیب کرپٹ ترین ادارہ بن چکا ہے :شہباز شریف
لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ گھر کے اندر اتحادہو تو باہر والا بال بیکا تک نہیں کرسکتا۔ ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہے ۔ آج اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے فیصلے کا وقت آ گیا ہے ۔70سالہ میں غیر شفاف احتساب ہوا،نیب کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ۔جمعرات کوماڈل ٹاؤن میں بلوچستان ریزیڈنشل کالج خضدار کے طلباء سے ملاقات کے د وران گفتگو کرتے ہوئے شہبا زشریف نے کہاکہ گزشتہ 70 برس میں عوام پر وسائل درست طریقے سے خرچ نہیں کئے گئے ۔ اگر ترجیحات طے کرکے شفاف طریقے سے فنڈز عوام تک پہنچتے تو آج ہماری حالت بدلی ہوتی۔ بلوچستان اور دیگر صوبوں کو جو وسائل فراہم کئے گئے ان کیساتھ انصاف نہیں کیا گیا اور قوم سے بھی انصاف نہیں ہوا۔ اس حمام میں تمام سیاسی اور مارشل لاء حکومتیں سب ننگے ہیں۔ سب نے پاکستان کے عظیم تر مفاد کیساتھ ناانصافی کی ہے ۔ انصاف، شفافیت، محنت اور دیانت کے ذریعے وسائل استعمال نہیں کئے ۔ نادر مواقع ضائع کئے گئے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ملک جو ہم سے پیچھے تھے ، آج آگے نکل گئے ہیں۔ جنوبی کوریا، چین، جاپان اور جرمنی نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کیا ، دوسری طرف ہم قدرتی وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود پیچھے رہ گئے ۔ مجھ سمیت پوری اشرافیہ اس کی ذمہ دار ہے ۔ ہم نے تعلیم، ہیلتھ کیئر، زراعت اور دیگر شعبوں کو اہمیت نہیں دی اور عزم اور جذبے سے کام نہیں کیاجو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اور ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل کی ایکسپورٹ پاکستان کی مجموعی برآمدات سے زیادہ ہے ۔ حالانکہ بنگلہ دیش میں کپاس پیدا نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مقاصد اور ترجیحات سے ہٹ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں کرپٹ شخص منہ چھپاتا پھرتا تھا لیکن بدقسمی سے کرپشن آج معاشرے کا حصہ بن چکی ہے اور کرپٹ ہی ناجائز دولت کی نمود و نمائش کرتے ہیں اور لوگو ں کے جذبات او احساسات کا خون کرتے ہیں۔ معاشرہ اس گراوٹ تک پہنچ چکا ہے جہاں کرپشن کو سٹیس کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ کرپشن نے پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا اور 70 برس میں احتساب نہیں ہوا بلکہ غیرشفاف احتساب ہوا ہے اور انصاف کے نام پرانتقام لیا گیا ۔یہ ظالمانہ مذاق ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھارت سے مدد لینے کی بات کی جا رہی ہے ۔ اگر گھر مضبوط ہو تو باہر والا کچھ نہیں کرسکتا۔ اتحاد، اتفاق گھر کے اندر ہو تو باہر والا بال بیکا تک نہیں کرسکتا۔ ہمیں اپنا گھر درست کرنا ہے ۔ آج اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے فیصلے کا وقت آ گیا ہے ۔ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے ، کوئی ہماری جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن صرف ایٹمی قوت ہونے سے کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی ۔اس ضمن میں سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے ، جو دوسری بڑی فوجی طاقت ہونے کے باوجود اپنے بوجھ سے ہی ٹوٹ گئی ۔ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے ، طعنہ زنی اور الزام تراشیوں سے باز رہنا ہوگا۔ قوم بننے کیلئے مٹی سے مٹی ہونا پڑتا ہے ۔ اگر آج ہم کرپشن سے باز آ جائیں گے ، شفافیت کو فروغ دیں گے ، محنت کریں گے اور پائی پائی قوم کی محرومیوں کو خوشیوں میں بدلنے پر لگائیں گے تو پاکستان صحیح معنوں میں عظیم ملک بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک دوسرے کو نوچ رہے ہیں۔ بے بنیاد الزامات لگا کر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں۔ 70 برس کے دوران جنہوں نے قوم کو بے دردی سے لوٹا ہے ان کا احتساب نہیں کیا گیا۔ احتساب کرنا نیب کا کام ہے لیکن نیب ایک کرپٹ ترین ادارہ بن چکا ہے ۔ مشرف دور اور اس کے بعدکے ادوارمیں نیب کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، یہی وجہ ہے کہ نیب کرپشن ختم کرنے کی بجائے کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے ۔