مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جعلی پیرفقیر جعلی طور پرموئے مبارک کا ڈھونڈورا پیٹ کر گستاخی کےمرتکب ہورہے ہیں: علما اہلسنت
بریڈ فورڈ ... فضلیت الشیخ پیر محمد حبیب الرحمن محبوبی کی صدارت میں منعقدہ ماہانہ تربیتی کیمپ جس میں نامور علما کرام اور برطانیہ بھر سے کثیر تعداد میں عقیدت مند شریک تھے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حافظ فضل احمد قادری نے کہا ہےکہ برطانیہ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب موئے مبارک کی جگہ جگہ زیارت کرائی جاتی ہے۔ موئے مبارک کی زیارت کرنے والوں کو اس کی تصدیق کرلینی چاہیے۔ اس بات کی مکمل سند حاصل کی جائے کہ یہ واقعی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک ہے یا پھر دھوکہ دہی سے موئے مبارک کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرکے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ حضور پاک صاحب لولاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کررہے ہیں، مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگوں نے اس بابرکت تبرک کو مذاق بنادیا ہے۔ جگہ جگہ مختلف ہوٹلوں ہالوں میں موئے مبارک کی زیارت کرانے والے دراصل موئے مبارک سے گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ زیارت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کریں۔ تصدیق کرنا یا اس کی سند جاننا کوئی بے ادبی نہیں ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی اسے باری تعالیٰ مجھے معلوم ہے کہ تو ہر شے پر قادر ہے لیکن میں اپنے اطمینان قلب کے لیے اپنی آنکھوں سے اس کی تصدیق چاہتا ہوں کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ موئے مبارک کی سند کا تقاضہ دراصل محبت رسول ہے۔ برطانیہ کے اندر جگہ جگہ توہم پرستی زور پکڑتی جارہی ہے۔ جس چیز کی نسبت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہو اس کی تحقیق بے حد ضروری ہے آج کل کے جعلی پیروں، فقیروں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ میں بسنے والے سادہ لوح مسلمانوں کو بے وقوف بناکر پیسہ بٹورنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ محقق برطانیہ علامہ ظفر محمود فراشوی نے بھی اسی موضوع پر کلام کرتے ہوئے کہا کہ آج کل خانقاہی نظام میں ریاکاری آگئی ہے۔ سنیوں کے عقیدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بے شمار جعلی پیر و فقیر جعلی طور پر موئے مبارک کو حضور پاک صلی اللہ ولیہ وسلم سے منسوب کرکے لوگوں کے سامنے پیش کررہے ہیں۔ ادب کا تقاضہ یہی ہے کہ موئے مبارک کی جاکر زیارت کی جائے نہ کہ گلی گلی پھر کر ڈھونڈورا پیٹ کر لوگوں کو زیارت کراکے موئے مبارک سے گستاخی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ آج کل نعت خوانی بھی فیشں بن چکی ہے۔ جگہ جگہ کراکے نعت خوانوں کو پروموٹ کرکے گانے اور ڈانس کے میوزک پر نعتیں پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو توبہ کرنا چاہیے۔ ان گستاخیوں سے بچنا چاہیے۔ پیر سید ریاض حسین شاہ نے کہا کہ اسلامی نیا سال شروع ہورہا ہے۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے گزشتہ سال کیسے گزارہ اور اپنی اصلاح کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرکے نئے سال کا استقبال کرتے ہوئے ہمیں اچھے اچھے کاموں کی تیاری کرنا ہوگی۔ پیر صاحبزادہ انوار الحق قادری نے تصوف پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہل تصوف سادگی کا بہترین نمونہ ہیں۔ ان کے دل اور ان کا ظاہر و باطن طیب اور شیشے کی طرح صاف اور شفاف ہوتا ہے۔ حافظ نعمت علی چشتی نے حضرت عثمان کی شان بیان کرتے ہوئے کہا۔ عثمان کی محبت کو قرآن نے گواہی دی ہے۔ پیر محمد حبیب الرحمن محبوبی نے تصوف پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ نقشبندیہ مجددیہ کے سلسلے سیدنا صدیق اکبر سے ہیں۔ وہی اس کے سالار اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سائے کی طرح گزاری۔ تاریخ گواہ ہے خلافت حضرت عمر کے سپرد ہوئی اور طریقت حضرت سیدنا ابوبکر صدیق نے حضرت سلمان فارسی کے سپرد کردی۔ پیر محمد حبیب الرحمن محبوبی نے کہا کہ سلمان فارسی کوئی معمولی صحابی نہ تھے۔ انہوں نے لمبی عمر پائی۔ 350 سال زندہ رہنے والے سلمان فارسی نے حضرت عیس علیہ السلام کی بھی زیارت کی ہوئی تھی۔ آتش پرستی سے نکل کر اپنی بقیہ تمہام عمر غلامی در غلامی گزارتے گزارتے وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ آئے اور دین اسلامن میں داخل ہوئے۔ تقریب کی نظامت کے فرائض حضرت مولانا نوید احمد سیالوی نے ادا کیے۔