مقبول خبریں
جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی برطانیہ برانچ کے زیرِ اہتمام فکر مقبول بٹ شہید ورکز یونیٹی کنونشن کا انعقاد
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اناڑی قیادت مسلط کرنیکی کوشش ناکام، مخالفین کی سیاست کھنڈر ہو جائے گی:بلاول بھٹو
حیدر آباد:بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں، حکمرانوں کو صرف ذاتی مفاد اور اپنا دفاع عزیز ہے، انا پرست اناڑی اب تک کھیل کے میدان سے باہر نہیں نکلا، پیپلز پارٹی کو قیام سے لیکر آج تک امتحانوں سے گزرنا پڑا، ہمارے امتحانات کی مثال نہیں ملتی۔بلاول بھٹو بولے، آمریت کے ظلم و ستم کا مقابلہ کیا مگر پیچھے نہیں ہٹے، ایوب خان کی آمریت کا سینہ تان کر مقابلہ کیا، تاریخ گواہ ہے ہر دور میں کربلا برپا ہوتی ہے، بھٹو پسے ہوئے طبقات کے لیڈر تھے، بھٹو نے آمر کی سولی کو چوما، کیا ایسی کوئی اور مثال ہے؟ بھٹو کی پھانسی کے بعد آمر اور غاصب سمجھ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی ختم ہو گئی لیکن آمر غلط ثابت ہوا اور محترمہ شہید نے جد و جہد کو جاری رکھا۔بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمہوریت کیخلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں، ایک طرف پیپلز پارٹی دوسری طرف آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیاں تھیں، کبھی آئی جے آئی بنائی گئی اور کبھی حکومتیں ختم کی گئیں تو کبھی جلاوطن کیا گیا۔چیئرمین پی پی پی نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ بے نظیر بھٹو کی بیٹی ہے، وہ عوام کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کا سیاسی منظرنامہ سب کے سامنے ہے، ایک طرف (ن) لیگ، دوسری طرف پی ٹی آئی ہے جو صرف ذاتی مفادات کی سیاست کرتی ہے، ان کو صرف ذاتی مفاد اور خاندان کا دفاع عزیز ہے۔بلاول نے یہ بھی کہا کہ مخالفین سیاسی طاقت حاصل کرنے کیلئے انتہاء پسندوں سے سمجھوتہ کرتے ہیں، دوسری طرف ایسا ٹولہ ہے جس کی قیادت اناڑی شخص کے پاس ہے جو آج تک گراؤنڈ سے باہر نہیں نکلا، سیاست گالم گلوچ اور جھوٹے الزامات کا نام نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں جھوٹی نہیں نظریاتی سیاست پر یقین رکھتا ہوں، سیاست کو عبادت سمجھ کر کر رہا ہوں۔