مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اناڑی قیادت مسلط کرنیکی کوشش ناکام، مخالفین کی سیاست کھنڈر ہو جائے گی:بلاول بھٹو
حیدر آباد:بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے خلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں، حکمرانوں کو صرف ذاتی مفاد اور اپنا دفاع عزیز ہے، انا پرست اناڑی اب تک کھیل کے میدان سے باہر نہیں نکلا، پیپلز پارٹی کو قیام سے لیکر آج تک امتحانوں سے گزرنا پڑا، ہمارے امتحانات کی مثال نہیں ملتی۔بلاول بھٹو بولے، آمریت کے ظلم و ستم کا مقابلہ کیا مگر پیچھے نہیں ہٹے، ایوب خان کی آمریت کا سینہ تان کر مقابلہ کیا، تاریخ گواہ ہے ہر دور میں کربلا برپا ہوتی ہے، بھٹو پسے ہوئے طبقات کے لیڈر تھے، بھٹو نے آمر کی سولی کو چوما، کیا ایسی کوئی اور مثال ہے؟ بھٹو کی پھانسی کے بعد آمر اور غاصب سمجھ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی ختم ہو گئی لیکن آمر غلط ثابت ہوا اور محترمہ شہید نے جد و جہد کو جاری رکھا۔بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ جمہوریت کیخلاف سازشیں ختم نہیں ہوئیں، ایک طرف پیپلز پارٹی دوسری طرف آمریت کی گود میں پلنے والی پارٹیاں تھیں، کبھی آئی جے آئی بنائی گئی اور کبھی حکومتیں ختم کی گئیں تو کبھی جلاوطن کیا گیا۔چیئرمین پی پی پی نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ بے نظیر بھٹو کی بیٹی ہے، وہ عوام کا ساتھ نہیں چھوڑیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کا سیاسی منظرنامہ سب کے سامنے ہے، ایک طرف (ن) لیگ، دوسری طرف پی ٹی آئی ہے جو صرف ذاتی مفادات کی سیاست کرتی ہے، ان کو صرف ذاتی مفاد اور خاندان کا دفاع عزیز ہے۔بلاول نے یہ بھی کہا کہ مخالفین سیاسی طاقت حاصل کرنے کیلئے انتہاء پسندوں سے سمجھوتہ کرتے ہیں، دوسری طرف ایسا ٹولہ ہے جس کی قیادت اناڑی شخص کے پاس ہے جو آج تک گراؤنڈ سے باہر نہیں نکلا، سیاست گالم گلوچ اور جھوٹے الزامات کا نام نہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ میں جھوٹی نہیں نظریاتی سیاست پر یقین رکھتا ہوں، سیاست کو عبادت سمجھ کر کر رہا ہوں۔