مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
غیرت کے نام پر گھر کو آگ لگانے اور بیوی کو جلا کر مارنے کے جرم میں عمر قید سزا !!
برمنگھم ... گھریلو ناچاقی پر گھر میں آگ لگا کر بیوی کو زندہ جلادینے والے ریاض عنائت کو برمنگھم کرائون کورٹ نے غیرت کے نام پر قتل کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ مجرم نے اسی سال 17 اپریل کو غیرت کے نام پر اپنے گھر کے گراؤنڈ فلور اور بالائی حصے کو پیٹرول چھڑک کر آگے لگا دی تھی۔ جب کہ اس کی بیوی، تین بیٹیاں اور ایک مہمان اوپر سو رہے تھے۔ شدید آتشزدگی اور دھوئیں میں محمد ریاض عنائت کی تین بیٹیوں اور ان کی سہیلی نے مکان سے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں جس دوران ان کی ہڈیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ اپنے گھر میں جان بوجھ کر آگ لگانے اور اپنی بیوی اور بیٹیوں کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش اور اس میں اپنی اہلیہ نیکہ کو جلا کر ہلاک کرنے کے جرم میں برمنگھم کراؤن کورٹ نے ریاض عنائت کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ 56 سالہ بدنصیب ریاض اپنی باقی ماندہ زندگی جیل میں ہی گزارے گا۔ عدالت میں بتایا گیا کہ محمد ریاض کی ایک بیٹی کلثوم اپنی پسند اور خوہش کے مطابق شادی کرنا چاہتی تھی۔ لیکن والد اس شادی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا اور اس شادی کو وہ اپنے لئے غیرت اور انا کا مسئلہ سمجھ رہا تھا۔ لیکن دوسری جانب خاندان کے باقی افراد ریاض کی اہلیہ، بیٹیاں اور بیٹا سب یہ چاہتے تھے کہ اگر ان کی بیٹی کی یہی خواہش اور فیصلہ ہے تو پھر اس کی شادی خوشی خوشی کر دینی چاہئے۔ انہوں نے پرگرام بنایا کہ شادی کے لئے دوبئی جاکر شادی کی رسومات ادا کردی جائیں لیکن ریاض اس صورت حال کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ایک رات جب ریاض کی اہلیہ، بیٹیاں اور ان کی ایک سہیلی اوپر سو رہی تھیں۔ اس دوران اسنے اپنے گھر کےدو مقامات پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی اور تھوڑی دیر میں شدید بھڑکنے والی آگ نے پورے گھر کو لپیٹ میں لے لیا اور ہر طرف آگ اوراندھیرا پھیل گیا۔ اس دوران ریاض کی بیٹیوں اور ان کی سہیلی نے اوپر کے فلور سے چھلانگیں لگا دیں اور شدید آگ میں جھلستی ہوئی شدید زخمی بھی ہوگئیں۔ لیکن محمد ریاض کی بیوی جو تیزی سے باہر نکل کر اپنی بچیوں کے ساتھ چھلانگ نہ لگا سکی وہ اپنے کمرے اور باتھ روم کے ساتھ ہی آگ کے شعلوں میں پھنس گئی۔ اور اپنی جان نہ بچا سکی۔ کراؤن پراسیکیوٹر ظفر صدیق نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ جرم مجرم نے اپنے خاندان کی عزت اور غیرت کے نام پر کیا ہے جس کی برطانیہ میں ہر گز گنجائش نہیں ہے انہوں نے کہا کہ برطانوی سوسائٹی ایسے جرائم کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرسکتی۔ ظفر صدیق نے کہا کہ محمد ریاض عنایت نے غیرت اور عزت کے نام پر انسانی جان لے لی ہے اور اپنی بچیوں کو بھی قتل کر دینے کی کوشش کی ہے جو کہ کسی بھی صورت میں ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں ایک بالغ مرد اور عورت کو یہ بنیادی اور واضح حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی اپنی پسند اور خواہش کے مطابق اپنا پارٹنر اور زندگی کا ساتھی منتخب کرے۔