مقبول خبریں
پاکستانی کمیونٹی سنٹر اولڈہم میں بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کا انعقاد، برطانیہ بھر سے 20 ٹیموں کی شرکت
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
امریکہ نے دہشتگردی روکنے کیلئے نگرانی میں بعض اوقات حد سے تجاوز کیا:جان کیری کی نکی جئی ہاں
لندن ... برطانوی دارالحکومت میں منعقدہ اوپن گورنمنٹ کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ نے دنیا کے متعدد معاملات میں بے جا دخل اندازی کا اقرار کیا ہے۔ جان کیری نے اعتراف کیا ہے کہ امریکی اداروں نے دہشتگردی کو روکنے کے لیے نگرانی کے پروگرام کے دوران بعض اوقات حد سے تجاوز کیا ہے۔ اس موقع پر منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح جان کیری نے امریکہ کے نگرانی کے پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے دہشتگردوں کی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ انھوں نے نائن الیون کے علاوہ لندن اور میڈرد میں ہونے والے حملوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کو مل کر انتہا پسندی کے خلاف لڑنا ہے جو کہ لوگوں کو مارنے، انھیں دھماکے سے اڑانے اور حکومتوں پر حملہ کرنے کے لیے کمربستہ ہے۔ کیری نے اس بات کی یقین دہانی کرانے کی بھی کوشش کی کہ ایسے اقدامات نہیں دہرائے جائیں گے جنھوں نے جرمنی جیسے قریبی حلیف تک کو بدظن کر دیا ہے۔ لندن کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ میں آپ لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس معاملے میں بے قصور لوگوں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی تاہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ انھوں نے کہا ہاں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ بعض معاملوں میں غیر مناسب طور پر حد سے تجاوز ہو گيا ہے۔ جیسا کہ صدر اوباما نے بھی کہا ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں مستقبل میں ایسا نہ ہو۔ گذشتہ دنوں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے امریکی صدر سے یہ کہتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی کہ این ایس اے ان کے فون کی نگرانی کر رہا ہے جو باہمی اعتماد کی خلاف ورزی ہے۔ دریں اثنا جرمن انٹیلی جنس کا ایک وفد اور یورپین یونین کے وزرا کا ایک وفد امریکہ میں موجود ہے اور اپنے امریکی اتحادی ملک سے جاسوسی کے الزامات کا جواب طلب کر رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں فوکس اسی امر پر رکھا کہ امریکی انٹیلی جنس سنہ 2001 کے بعد سے مواصلات کی نگرانی کے ذریعے کئی حملوں کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔