مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پیرس: کامیڈین کی لائیو شو کے دوران گلوکارہ کے لباس سے چھیڑچھاڑ
پیرس:لورینٹ بفی ایک گلوکارہ کے ہمراہ ایک فرانسیسی ٹی وی چینل کے لائیو شو میں شریک تھے۔ گلوکارہ کے انٹرویو کے دوران بفی بار بار اس کے لباس کے ساتھ چھیڑخانی کرتے رہے۔ شاید وہ ایسا شو کی ریٹنگ بڑھانے کی غرض سے کر رہے تھے اور ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرنا تھا۔ اس دوران انہوں نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں کچھ نازیبا الفاظ بھی کہے۔ خاتون مسلسل ہنستے ہنستے انہیں ایسا کرنے سے منع کرتی رہیں۔ ابتداء میں تو شو کے میزبان نے بھی معاملے کو محض ایک مزاحیہ اداکار کی مزاحیہ حرکت سمجھ کر اسے نظرانداز کیا لیکن جب بفی باز نہ آئے تو میزبان نے انہیں روکنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے گلوکارہ نولوین لیروئے کو تنگ کرنا جاری رکھا۔ اس پر میزبان بولے، ایسا مت کرو بفی، وہ ایک ماں بھی ہیں ۔ بفی بولے، ہاں! نوجوان اور خوبصورت ماں ۔ اس پر خاتون نے معذرت خواہانہ انداز میں وضاحت کرتے ہوئے کہا، میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ میں نے انہیں صرف اس لئے برداشت کیا کیونکہ یہ میرے دوست ہیں۔واقعے کے بعد فرانسیسی ٹی وی کی انتظامیہ کو ناظرین کی جانب سے بہت سی شکایات موصول ہوئیں اور اسے کہنا پڑا کہ اس نے یہ جاننے کیلئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ کیا واقعہ چینل کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے یا نہیں۔واقعے کے ایک ہفتہ بعد مزاحیہ اداکار کو ایک اور ٹی وی پروگرام کے دوران عوام سے معافی مانگنا پڑی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں معافی مانگنا چاہوں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ میں نے ایک غلط حرکت کی، میں نے ایک لڑکی کے لباس کو چھیڑا اور میں جانتا ہوں کہ یہ اچھی بات نہیں ہے۔واضح رہے کہ حجاب پر پابندی لگانے والے فرانس کی ٹیلی ویژن چینلز کو ریگولیٹ کرنے والی اتھارٹی کو گزشتہ 12 ماہ کے دوران ایسے کم از کم 5 واقعات کے متعلق شکایات موصول ہو چکی ہیں۔