مقبول خبریں
عبدالباسط ملک کے والدحاجی محمد بشیر مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعائیہ تقریب
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
ملکی تحفظ اور استحکام کیلئے جلد دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا: شہباز شریف
برلن ... جرمنی کے اہم ترین شہر برلن میں پاک جرمن اقتصادی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں پاکستانی تارکین وطن کے علاوہ جرمن بزنس مینوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اس کانفرنس کے مہمان خصوصی وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف تھے۔ انکی سربراہی میں80 پاکستانی تاجروں وصنعتکاروں پر مشتمل وفد نے اس ایک روزہ”پاکستان ڈے“ کانفرنس میں شرکت کرکے اس کے حسن کو دوبالا کیا۔ اس تقریب میں حب الوطنی کا عنصر پیدا کرنے کیلئے اسے پاکستان ڈے کا نام بھی دیا گیا۔ جرمن شہر ہیمبرگ سے تعلق رکھنے والے تاجر علی اصغر نے پاکستان ڈے کے موقع پر پاکستان میں قدم جمانے کی خواہش رکھنے والے جرمن صنعتی اداروں کو وہاں کی صورتحال کے بارے میں بتایا۔ علی اصغر شہباز شریف کے اس وفد میں شامل تھے، جس نے برلن میں ہونے والے پاکستان ڈے میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے یقین دہانی کرائی کہ اگر سلامتی کے حالات بہتر ہو جائیں تو پاکستان میں جرمن سرمایہ کاروں کی بھیڑ لگ جائے گی۔ ان کے اس بیان پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور اقلیت میں موجود جرمن تاجروں نے بھی شہباز شریف کی تائید کی۔ الیکٹرانک مصنوعات بنانے والی جرمن کمپنی زیمینز کا شمار پاکستان میں سرگرم بڑے جرمن اداروں میں ہوتا ہے۔ وزیر اعلٰی پنجاب نے زیمینز کے عہدیداروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کو گزشتہ برسوں کے دوران کاروباری فائدہ نہیں ہوا؟ تاہم ان افراد نے جواب میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ وزیر اعلٰی پنجاب نے مزید کہا کہ پاکستان دہشت گردی پر قابو پانے کی کوششیں کر رہا ہے اور اس ناسور کو جلد ختم کر دیا جائے گا۔ اس اجتماع کے دوران پاکستانی وفد کی کوشش رہی کہ وہ درمیانے درجے کی جرمن کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے راغب کر سکے۔ اس دوران ہونے والی بات چیت میں شمسی توانائی، بائیو مصنوعات، ادویات اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے موضوعات پر زیادہ توجہ مرکوز رہی۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ادارے کے سربراہ محمد عمر نے معیشت کے لچک دار ڈھانچے کی وکالت کی، جو غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سو فیصد منافع کی ضمانت دیتا ہے۔ محمد عمر نے کہا کہ پورے خطے میں ایسا صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے۔ اس موقع پر برلن یونیورسٹی کے پروفیسر ہیرمان کروئٹزمان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اگر کسی سرمایہ کار کو خوف نہ ہو تو پاکستان واقعی سرمایہ کاروں کے لیے ایک جنت ہے کیونکہ وہاں نہ تو ماحولیات کا خیال کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی وہاں نگرانی کا کوئی مؤثر نظام ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا کہ وہ پاکستانی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے بقول اگر کچھ اصلاحات کو عوامی پذیرائی حاصل نہ بھی ہو، پھر بھی اسلام آباد حکومت کو یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔اس موقع پر توانائی،انفارمیشن ٹیکنالوجی،ٹیکسٹائل،زراعت،دوا سازی،مالی مسائل کے حل،انجینئرنگ،لاجسٹکوسپلائی،گھریلو مصنوعات،آٹوموبائل اور سیاحت سمیت معیشت کے مختلف شعبوں سے پچاس سے زائد کمپنیوں کے ایگزیکٹو سربراہان اور نمائندے پاکستان کی معیشت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے موجود منافع بخش مواقعوں سے جرمن سرمایہ کار اور کاروباری حضرات کو آگاہ کیا گیا۔