مقبول خبریں
پاکستان میں صاف پانی کی سہولت کو ممکن بنانے کیلئے مختلف منصوبوں پر کام کرونگی:زارہ دین
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
شام میں پولیو کے کیسز سامنے آنے پر وزارت صحت نے الزام پاکستان کے سر تھونپ دیا گیا
دمشق ...مملکت خداداد پاکستان کو جیسے ایک کے بعد ایک مصیبت میں دھکیلا جا رہا ہے اور ان حالات کے تانے بانے عالمی قوتوں کی طرف ہی دکھتے ہیں۔ چند روز قبل پاکستان میں پولیو مہم کے انچارج نے کہا تھا کہ لگتا ہے شام میں پولیو کا مرض پاکستان کی وجہ سے وہاں پہنچ گیا ہے۔ اب شام کی حکومت نے ملک میں پولیو کے چند کیسز سامنے آنے پر الزام پاکستان پر دھر دیا ہے۔ شام میں چودہ برس بعد پہلی مرتبہ اس مہلک بیماری کو رپورٹ کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز شامی وزارت برائے فلاحی امور نے بتایا کہ یہ بیماری پاکستانی جہادی اپنے ساتھ شام لائے ہیں۔ پاکستان میں غدار وطن کا لقب پانے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی انسداد پولیو مہم میں بظاہر انسانیت کی بقا کے پروگرام سے وابستہ تھے لیکن قبائلی عوام خاص طور پر حب الوطنی کے معاملے میں اپنے بچے بھی قربان کر دینے میں عار محسوس نہیں کرتے، وہ خود قبائلی تھے اس حقیقت کا بخوبی علم بھی رکھتے تھے مگرکمزور انسان تھے اسلئے چنے گئے، اس کے بعد پولیو کے خاتمے کی مہم گویا گناہ بن گئی ہو لیکن "عالمی طاقتوں" نے ایک بارپھر ایک ایسا شخص چن لیا جسے ریا کاری آتی تھی۔ اقوام متحدہ کے کار خاص اور عالمی ادارہ صحت کے نمائندے الیاس درے چند روز قبل ہی یہ فرمان جاری کر چکے ہیں کہ "شام میں پائے جانے والے پولیو وائرس کی تحقیقات سامنے نہیں آئیں لیکن اس بات کو قطعی خارج از امکان قرار نہیں دیا سکتا کہ یہ وائرس پاکستان سے منتقل ہوا ہو" یہ صاحب پاکستان کے انتہائی جہاندیدہ سیاستدان عمران خان سے مل بھی چکے ہیں اور بقول ان کے خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو مہم میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے بھر پور معاونت کا وعدہ بھی لے چکے ہیں۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کے انسداد پولیو پروگرام کے موجودہ سربراہ الیاس درے کا کہنا ہے کہ چین، فلسطین اور مصر نے اپنے ہاں بھرپور انسداد پولیو مہم کے ذریعے اس وائرس پر قابو پایا تھا مگر گزشتہ چند سالوں میں وہاں پھر کچھ علاقوں میں پولیو وائرس کی موجودگی رپورٹ کی گئی اور تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ اسی قسم کے وائرس تھے جو پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے یہ خبردار بھی کیا کہ وائرس کی منتقلی کا یہ عمل ایسے ہی جاری رہا تو پولیو وائرس سے پاک ممالک کی طرف سے پاکستان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔ الیاس درے نے بتایا کہ کراچی شہر میں بھی نئے پولیو کیسز پشتون آبادی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ طالبان سے بات چیت کے حالات کو سازگار جانتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو کے کارکنوں کی قبائلی علاقوں تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے عسکریت پسندوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔