مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
آئین، عوام کے حق حکمرانی، ووٹ کے تقدس کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کر لیا:نواز شریف
اسلام آباد: احتساب عدالت میں پیشی کے بعد نواز شریف پنجاب ہاؤس پہنچے اور دھواں دھار پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے اور جے آئی ٹی کی تشکیل پر سخت تنقید کی، کہتے ہیں جانتا ہوں کس جرم کی سزا دی گئی؟ نااہل کرنے کے لئے اقامہ کی آڑ لی گئی، پانامہ ملکی تاریخ میں تمام آئینی اور قانونی حقوق سلب کرنے والا پہلا کیس ہے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عدالت نے پراسرار طریقے سے جے آئی ٹی بنائی اور اس کی نگرانی بھی کی جب کہ اسی عدالت نے سارے ضابطے توڑ کر نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا، اسی عدالت نے نیب کا کنٹرول سنبھال لیا اور احتساب کورٹ کی نگران بھی بن گئی، کیا ایسا ہوتا ہے؟ کیا اسے کہتے ہیں قانون کی پاسداری؟نواز شریف نے کہا کہ کچھ ثابت نہ ہوا تو پانامہ کی بجائے اقامہ پر سزا دے دی گئی، ایک پائی کی کرپشن، رشوت، بدعنوانی، کک بیکس یا اختیارات کا غلط استعمال ثابت نہیں ہوا، قوم کو بتا تو دیتے کہ پانامہ پر کچھ نہیں ملا اس لئے اقامہ پر سزا دی جا رہی ہے، نااہل کرنے کا فیصلہ پہلے ہو چکا تھا۔نواز شریف نے کہا کہ تنخواہ وصول نہ کرنے پر نااہل کیا گیا لیکن انہوں نے اس ملک کے لئے کیا کچھ کیا، کسی نے نہیں دیکھا، تاریخ متنازعہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔سابق وزیر اعظم نے مزید کہا کہ قائد اعظم کے پاکستان اور ستر برس کے دوران نشانہ بننے والے وزرائے اعظم کا مقدمہ لڑ رہا ہوں، یقین ہے آخری فتح عوام اور پاکستان کی ہو گی۔نواز شریف بات مکمل کرنے کے بعد صحافیوں کے سوال لئے بغیر ہی اپنی نشست سے اٹھ کر چلے گئے۔