مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزراء کا کام بیان دینا نہیں، بیماری کا علاج کرنا ہے: چودھری نثار علی
اسلام آباد: ترجمان چودھری نثار نے کہا ہے کہ وزراء کا کام بیان دینا نہیں بلکہ بیماری کا علاج کرنا ہے، کیا جون 2013ء اور آج پاکستان کی داخلی سلامتی کی صورتحال میں واضح فرق نہیں؟ یہ کسی بیرونی مدد یا دباؤ کی وجہ سے نہیں اللہ کے کرم اور مشترکہ کوششوں کی وجہ سے ممکن ہوا۔ ترجمان نے مزید کہا کہ مشترکہ کوششوں میں وفاقی، صوبائی حکومتیں، فوج، پولیس اور سب ایجنسیاں شامل ہیں، وزراء کو کوئی کمی یا کمزوری نظر آتی ہے تو انہیں اس کا مداوا کرنا چاہئے، اگر کوئی مسئلہ تھا تو وزیر موصوف اسے کابینہ یا قومی سلامتی کمیٹی میں اٹھاتے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انتہائی اہم اور حساس معاملات سے متعقل پہیلیوں اور مفروضوں پر بات نہیں ہونی چاہئے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے 26 ہزار سے زیادہ شہادتیں دیں اور 100 ارب کا نقصان اٹھایا، قربانیوں کے باوجود ہمیں دنیا میں نکتہ چینی، تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ترجمان چودھری نثار نے مزید کہا کہ عجیب صورتحال ہے، آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ اب دنیا کو ڈو مور کرنا چاہئے لیکن ہمارے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو ڈو مور کی ضرورت ہے، دونوں ساڑھے 4 سال سے وزراء ہیں، کیا انھوں یہ باتیں کابینہ یا قومی سلامتی کمیٹی میں کہیں؟ کیا وزیر موصوف کو علم ہے کہ ان کے بیان کی بھارت میں کتنی پذیرائی اور تشہیر ہوئی؟ ہندوستان میں اس بیان کو اس طرح پیش کیا گیا کہ سارا مسئلہ پاکستان میں ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ بڑی کامیابیوں کے باوجود قومی سلامتی کے حوالے سے کچھ کمزوریاں اور کوتاہیاں اب بھی ہیں، ان کمزوریوں اور کوتاہیوں کو مشاورت، محنت اور اتفاق سے حل کرنا چاہئے، بیانات کے ذریعے دنیا کے سامنے ایسا تماشہ نہیں لگانا چاہئے جس سے دشمن فائدہ اٹھائے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ قومی سلامتی حساس مسئلہ ہے، لب کشائی سے پہلے ملکی مفاد سامنے رکھنا ضروری ہے، ایسے بیانات کا مقصد حساس اداروں اور بالواسطہ پاک فوج کو نشانہ بنانا ہوتا ہے، ایسا ہے تو انسان میں اخلاقی جرات ہونی چاہئے کہ وہ پہیلیوں کی بجائے صاف بات کرے۔