مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کنٹرول لائن پرجہنم زدہ زندگی
سری نگر ... ایک مٹی پر آباد کشمیریوں کی سدا بہار دشمن فوج نے جموں میں کشمیریوں کو جب سے ایک دوسرے سے اور جن پیاروں سے دور کیا ہے وہ کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے لوگ موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر طرف خوف اور بے یقینی کے ڈیرے ہیں۔ کنٹرول لائن ہمارے لیے جہنم بن گئی ہے۔ کشمیریوں کو اس عذاب سے نجات چاہیے۔ یہ الفاظ ہیں کنٹرول لائن کے نزدیکی قصبے لنگیٹ کے رکن اسمبلی اور سماجی کارکن انجینیئر عبدالرشید کے۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن غالباً دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ یہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان غالباً یہ دنیا کا طویل ترین تنازع بھی ہے۔ کسی نہ کسی مرحلے پر تو اسے حل کرنا ہی ہو گا۔ لیکن کنٹرول لائن پر بسے ہوئے لوگوں کے حوصلے اب ٹوٹنے لگے ہیں۔ اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔آوورہ کے محمد اقبال کہتے ہیں کہ بس موت کے سائے میں زندگی بسر ہو رہی ہے نہ گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ باہر جا سکتے ہیں۔ شام کو پتہ نہیں ہوتا کہ سویرا ہو گا اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔تنگڈار کے باشندے نثار احمد لون کہتے ہیں جب گولہ باری ہوتی ہے یا بارودی سرنگ پھٹتی ہے تو کسی کا بازوجاتا ہے، کسی کا پیر جاتا ہے۔ کوئی مارا ہی جاتا ہے۔ یہ سارا بارڈر بہت خطرناک ہے۔ خود لون کے پیر میں لوہے کی چار راڈیں لگی ہوئی ہیں۔ ایم ایل اے عبدالرشید کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی تمنا ہے کہ جنگ بندی ایک بار پھر نافذ ہوجنگ بندی ٹوٹنے سے کشمیریوں کا حوصلہ ٹوٹا ہے۔ ہر طرف بے یقینی ہے۔ جو لوگ سرحدوں پر رہ رہے ہیں وہی وہاں کے مصائب سمجھ سکتے ہیں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے اور کنٹرول لائن کے سوال کو انسانی جذبے سے حل کرنا چاہیے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی سے ہر طرف گھبراہٹ پھیلی ہو ئی ہے۔ اوڑی اور پنچھ کے بعض علاقوں میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ جو لوگ امن کی باتیں کر رہے تھے وہ بھی جوابی کارروائی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔