مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کنٹرول لائن پرجہنم زدہ زندگی
سری نگر ... ایک مٹی پر آباد کشمیریوں کی سدا بہار دشمن فوج نے جموں میں کشمیریوں کو جب سے ایک دوسرے سے اور جن پیاروں سے دور کیا ہے وہ کنٹرول لائن کے نزدیک رہنے والے لوگ موت کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر طرف خوف اور بے یقینی کے ڈیرے ہیں۔ کنٹرول لائن ہمارے لیے جہنم بن گئی ہے۔ کشمیریوں کو اس عذاب سے نجات چاہیے۔ یہ الفاظ ہیں کنٹرول لائن کے نزدیکی قصبے لنگیٹ کے رکن اسمبلی اور سماجی کارکن انجینیئر عبدالرشید کے۔ کشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن غالباً دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ یہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان غالباً یہ دنیا کا طویل ترین تنازع بھی ہے۔ کسی نہ کسی مرحلے پر تو اسے حل کرنا ہی ہو گا۔ لیکن کنٹرول لائن پر بسے ہوئے لوگوں کے حوصلے اب ٹوٹنے لگے ہیں۔ اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔آوورہ کے محمد اقبال کہتے ہیں کہ بس موت کے سائے میں زندگی بسر ہو رہی ہے نہ گھروں میں محفوظ ہیں اور نہ باہر جا سکتے ہیں۔ شام کو پتہ نہیں ہوتا کہ سویرا ہو گا اوڑی، پنچھ، آوورہ اور تنگ ڈار جیسے سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے درمیان زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔تنگڈار کے باشندے نثار احمد لون کہتے ہیں جب گولہ باری ہوتی ہے یا بارودی سرنگ پھٹتی ہے تو کسی کا بازوجاتا ہے، کسی کا پیر جاتا ہے۔ کوئی مارا ہی جاتا ہے۔ یہ سارا بارڈر بہت خطرناک ہے۔ خود لون کے پیر میں لوہے کی چار راڈیں لگی ہوئی ہیں۔ ایم ایل اے عبدالرشید کہتے ہیں کہ کشمیریوں کی تمنا ہے کہ جنگ بندی ایک بار پھر نافذ ہوجنگ بندی ٹوٹنے سے کشمیریوں کا حوصلہ ٹوٹا ہے۔ ہر طرف بے یقینی ہے۔ جو لوگ سرحدوں پر رہ رہے ہیں وہی وہاں کے مصائب سمجھ سکتے ہیں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو مل بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے اور کنٹرول لائن کے سوال کو انسانی جذبے سے حل کرنا چاہیے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی سے ہر طرف گھبراہٹ پھیلی ہو ئی ہے۔ اوڑی اور پنچھ کے بعض علاقوں میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ جو لوگ امن کی باتیں کر رہے تھے وہ بھی جوابی کارروائی کی باتیں کرنے لگے ہیں۔