مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
جسٹس جواد ایس خواجہ کا پشاور کے علاقے کارخانو کا دورہ، نیٹو افواج کی اشیا خود بکتے دیکھیں
کراچی ... پاکستان کے اہم ترین ایشو کراچی میں امن و امان کی صورتحال کے بارے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ایک بینج کے ممبر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ وہ پشاور کے باہر واقع علاقے کارخانو گئے تھے جہاں ا نیٹو کا اسلحہ فروخت ہو رہا ہے۔ انہوں نے ایف بی آئی آر کے چیئرمین کو مشورہ دیا کہ وہ امریکی سفیر کو وہاں لے کر جائیں اور دکھائیں۔ نیٹو کے کنٹینروں کے لاپتہ ہونے سے متعلق پاکستان میں امریکی سفیر نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ایک خط لکھا ہے جس میں امریکی سفیر نے واضح کیا ہے کہ نیٹو یا اتحادی افواج کے انیس ہزار کنیٹرز لاپتہ نہیں ہوئے ہیں اور اس حوالے سے اخبارات میں غلط خبریں شائع ہو رہی ہیں۔سپریم کورٹ جمعرات کو یہ فیصلہ کرے گی کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو خط تحریر کیا جائے یا نہیں۔سپریم کورٹ کا بینج چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل ہے۔ عدالت کو رمضان بھٹی کمیشن کی رپورٹ پڑھ کر سنائی گئی جس میں یہ بتایا گیا کہ امریکی سفیر نے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو ایک خط لکھا ہے جس میں واضح کیا ہے کہ نیٹو یا اتحادی افواج کے انیس ہزار کنیٹرز لاپتہ نہیں ہوئے ہیں اور اس حوالے سے اخبارات میں غلط خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی کی بندرگاہوں سے صرف سفارتی اور کھانے پینے کی اشیا برآمد کی جاتی ہیں اسلحہ نہیں لایا جاتا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور وزیرستان میں جو جدید اسلحہ آ رہا ہے وہ کہاں سے آ رہا ہے؟ ہر ادارہ کہہ رہا ہے کہ سمندری راستے سے آ رہا ہے۔ اس موقعے پر چیف جسٹس نے شعیب سڈل اور حافظ انیس کمیشن کی رپورٹوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان میں کہا گیا تھا کہ جدید اسلحہ کراچی کی بندرگاہوں سے داخل ہو رہا ہے۔اٹارنی جنرل نے نشاندہی کی کہ امریکی سفیر کے خط میں یہ لکھا ہے کہ کنٹینرز لاپتہ نہیں ہوئے تاہم ان میں موجود سامان کی کوئی بات نہیں کی گئی۔