مقبول خبریں
چوہدری بشیر رٹوی کی ربیکا لانگ بیلی سے ملاقات،مقبوضہ کشمیر بارے یاداشت پیش کی
بھارتی ظلم و جبر؛ برطانیہ کے بعد امریکی اخبارات میں بھی مسئلہ کشمیر شہہ سرخیوں میں نظر آنے لگا
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز اورسیمینارز منعقد کریگی : راجہ نجابت
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مودی کا دورہ فرانس، کشمیری و پاکستانی پیرس میں احتجاج کریں:جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت
وہ جو آنکھ تھی وہ اجڑ گئی ،وہ جو خواب تھے وہ بکھر گئے
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ فی الفور برما میں ہونیوالے مسلمانوں کا قتل عام بند کروائے:چوہدری بشیر رٹوی
مانچسٹر:برما میں روہنگیا کے مسلمانوں پرہونے والے وحشیانہ تشدد اور نسل کشی کے دلخراش منظر دیکھ کر دل حقیقتاً خون کے آنسو روتا ہے اور رات کو نیند بھی نہیں آتی،انسانیت کی تذلیل اور بے رحمانہ ذبح کرنے کے مناظر انسانی تاریخ کے بد ترین میں سے ہیں ایسے میں عالم اقوام اور بالخصوص برطانیہ کا کردار غیر موثر ہے ،اس بارے ٹھوس اور واضع اقدامات اٹھانے کی فی الفور ضرورت ہے،یہ باتیں مسلم کانفرنس برطانیہ کے صدر چوہدری محمد بشیر رٹوی نے ممبر برطانوی پارلیمنٹ و شیڈو وزیر ربیکا لانگ بیلی سے ایک ہنگامی ملاقات کے موقع پر کیں،انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو چاہئے کہ فی الفور برما کی حکومت سے رابطہ کر کے مسلمانوں کا قتل عام بند کروائے اور مہاجرین کی امداد کیلئے جانے والے رفاعی تنظیموں کا داخلہ ممکن بنایا جائے،مذہب کے نام پر دنیا کے کسی بھی حصے میں افراتفری اور انتشار ناقابل قبول اور ہم اسکی بھرپور مذمت کرتے ہیں،اس موقع پر ممبر ربیکا لانگ بیلی نے چوہدری محمد بشیر رٹوی کو یقین دلایا کہ یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت اور حساس ترین ہے انسانیت پر مذہب کی وجہ سے ڈھائے جانے والے مظالم کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور وہ اس مسئلہ کو برطانوی پارلیمنٹ میں پوری طاقت کے ساتھ اٹھائیں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ اس پر عملی طور پر اقدامات بھی اٹھائے جائیں،اس موقع پر سلفورڈ کونسل کے کونسلرز بھی موجود تھے۔خصوصی رپورٹ:فیاض بشیر