مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانوی وزیر اعظم کے ہمراہ نواز شریف،کرزئی ملاقات، طالبان سے بات چیت کے حوالے سے گفتگو
لندن...ورلڈ اسلامک انٹرنیشنل فورم کے بہانے برطانوی دارالحکومت لندن میں اکٹھے ہوئے دو اہم ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے سربراہان مملکت نے برٹش وزیر اعظم کی موجودگی میں ملاقات کی جس میں دونوں برادر مسلم ممالک کے درمیان تعوان کے فروغ اور غلط فہمیوں کے ازالے پر بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات خطے میں استحکام کے حوالے سے ہونے والی چوتھی سہہ فریقی سربراہ ملاقات تھی۔ تینوں رہنماؤں نے افغانستان میں امن کے عمل میں پاکستان کے کردار پر بات چیت کی۔ برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حکومرانوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ خطے میں امن استحکام کے حوالے سے برطانوی تعاون سے مزید بہتری لائیں گے اور عالمی افواج کے پرامن انخلا مین مکمل طور پر معاون ہوں گے۔ افغان حکام کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملا برادر سے ملنے کے لیے افغان امن کونسل عنقریب پاکستان کا دورہ کرے گی۔ افغان صدارتی محل نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت افغان امن کونسل اہم طالبان کمانڈر ملا برادر سے ملاقات کے لیے جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔ افغان صدر کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف نے کابل کا پہلا دورہ کرنے کی ہامی بھری ہے لیکن پاکستان کی جانب سے اسکی فی الحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ افغان امن کونسل کو طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ افغان حکام کا خیال ہے کہ اگر برادر کو مکمل آزادی کے ساتھ کام کرنے دیا جائے تو وہ طالبان رہنماؤں کو بارہ سال سے جاری شدت پسندی ختم کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔تاہم پاکستانی حکام کسی مصلحت کے تحت اس پیش رفت پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔