مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
دولت کی غیرمساوی تقسیم اسلامی ممالک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ، فوری خاتمہ ہونا چاہئے: نواز شریف
لندن ... ورلڈ انٹرنیشنل اسلامک فورم کے نویں سالانہ اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ دولت کی غیر مساوی تقسیم اسلامی ممالک کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے اسکا فوری خاتمہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستند عالمی رپورٹ کے مطابق اس وقت پوری دنیا کی نصف آبادی صرف ایک فیصد عالمی دولت کی مالک ہے جبکہ دنیاکے 10 فیصد امیر دنیا کی 86 فیصداور امیر ترین ایک فیصد دنیا کی 46 فیصد دولت کے مالک ہیں، انھوں نے پوری دنیا سے کہا کہ حکومتوں کے مل جل کر کام کرنے کویقینی بنائیں کیونکہ عالمی رابطوں کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت کی حساسیت بڑھ گئی ہے، دنیا کے کسی بھی ایک حصے کی کسی بھی بری خبر یا مسئلہ تیزی کے ساتھ دنیا کے دیگر حصوں کوبھی متاثر کرتاہے اور اس کے منفی نتائج میں اضافہ ہوجاتاہے۔ پاکستانی وزیر اعظم کہا کہ مسلم دنیا کے پاس دنیا کو اقتصادی کردار کے علاوہ سماجی اور سیاسی فلسفے کے اعتبار سے بھی دینے کیلئے بہت کچھ ہے، مسلم دنیا کی آبادی ڈیڑھ ارب سے زیادہ یعنی پوری دنیا کی 23 فیصد آبادی کے مساوی ہے، جن میں 24 سال سے کم عمر کے 835 ملین نوجوان شامل ہیں، اس وقت عالم اسلام کی جی ڈی پی 6.6 کھرب ڈالرہے جو کہ کل جی ڈی پی کا صرف 8 فیصد ہے، اسلامی ممالک کی آبادی دنیا کی ایک تہائی آبادی ہے لیکن برآمدات صرف 14 فیصد ہے لہٰذا ہمیں لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا اور ایک طاقت کے طور پر ابھرنا ہوگا۔ مسلم دنیا کے سو سے زائد اعلی سطحی شخصیات سے مخاطب ہوتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ ہمیں لوگوں کی فلاح وبہبود کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا اور ایک طاقت کے طور پر ابھرنا ہوگا ،انھوں نے اس بات پر زوردیا کہ اسلامی ممالک وسط ایشیا اور جنوبی چین کی وسیع مارکیٹ کیلئے گیٹ وے کا کردار ادا کریں گے، اس خطے کے ممالک فی الوقت سڑکوں کے ذریعے ایک دوسرے سے ملانے اوراقتصادی ترقی کے وسیع تر پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں، جس سے یہ ممالک تجارت اورکاروبار کے وسیع مواقع کیلئے کھل جائیں گے، انھوں نے کہا دوسرے ممالک کے ساتھ اسلامی ممالک کے تعاون کی راہ میں کوئی مسئلہ حائل نہیں ہے، ہمارے مسائل اور چیلنجز دنیا کے دیگر ممالک کودرپیش مسائل اورچیلنجوں سے مختلف نہیں ہیں، ہمیں اپنے عوام کی اقتصادی ترقی کیلئے بجلی، پانی، انفراسٹرکچر ،تجارت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ غربت ہمارا اصل مسئلہ ہے جواقتصادی ترقی کے ذریعہ ہی ختم ہوسکتا ہے جس کیلئے ہمیں اسلامی دنیا سے باہر کے ترقی یافتہ ممالک کی غیرملکی سرمایہ کاری اور وسیع تر تجارتی مارکیٹوں کی ضرورت ہے۔آج ہم مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔