مقبول خبریں
اوورسیز پاکستانیز فائونڈیشن کو فعال کردار ادا کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھا ئے ہیں:بیرسٹر امجد
بے نظیر بھٹو کو جمہوریت کے دشمنوں نے قتل کیا، برطانوی وزیر اعظم
تارک وطن بزرگوں نے محنت کا جو بیج بویا تھا آج اسکے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں
خوشحالی شریفوں اور زرداریوں کیلئے نہیں غریبوں کیلئے ہونی چاہئے: عمران خان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی فائرنگ، مزید 2 نوجوان شہید
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
برطانیہ کے ساحلی شہر سائوتھ ہیمپٹن میں ملی نغموں کی گونج، ڈپٹی میئر کی خصوصی شرکت
برما میں مسلمانوں کا قتل عام انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے:وہیپ اینڈریو
کرپٹ خان
پکچرگیلری
Advertisement
کونسلر وحید اکبر کا آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں عشائیے کا اہتمام
لوٹن:برطانیہ اور پاکستان میں ایک طرح کا قانون اور عدالتی نظام رائج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی میسر ہے اور ہم آج بھی قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی نے لیوٹن میں اپنے عزاز میں دیے گے عشائیے میں کیا۔کونسلر وحید اکبر نے آزاد کشمیر کے جسٹس شیراز کیانی کے ا عزاز میں لیوٹن براہ کونسل کے مئیر پالر میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا جس میں لارڈ قربان حسین۔ مئیر آف لیوٹن چوہدری محمد ایوب۔ کونسلر محمد اسلم کونسلر۔ نسیم ایوب مسلم لیگ برطانیہ کے رہنما ذاکر کیانی۔ شبیر ملک۔ معروف کمیونٹی رہنما حسین شہید سرور اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ لارڈ قربان حسین نے جسٹس شیراز کیانی کی عدالتی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اوور سیزکشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے شفاف اور آسان انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جائیگی۔ مئیر آف لیوٹن چوہدری محمد ایوب نے بھی جسٹس شیراز کیانی کو لیوٹن آمد پر خوش آمدید کہا۔ اور لیوٹن کونسل کے ترقیاتی منصوبوں اور اپنی خدمات کے مطلق آگاہی فراہم کی۔ اس موقع پر جسٹس شیراز کیانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا برطانیہ اور پاکستان میں ایک طرح کا قانون اور عدالتی نظام رائج ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی میسر ہے اور ہم آج بھی قلم اور کاغذ استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے پروسیکیوشن سسٹم میں کافی خامیاں موجود ہیں جس سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ جہاں بر طانیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی اور کشمیری اچھے سیاسی اور دوسرے عہدوں پر فائز ہیں وہاں کرائم میں بھی ہماری شرح کافی ہائی ہے۔ جو قابلِ تشویش ہے اور ہمیں اس پر کنٹرول کرنا چائے۔آخر میں انھوں نے سیاسی اور کمیونٹی رہنماں کا اس پر تکلف عشائیہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ (رپورٹ :شیراز خان)