مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاناما لیکس کی بھارت میں بھی گونج،سپر سٹار امیتابھ بچن کیخلاف تفتیش شروع
ممبئی: انڈین انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے بالی ووڈ کے سپر سٹار امیتابھ بچن سمیت درجنوں افراد کیخلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معلومات تک رسائی کیلئے ایک ٹاپ لیول افسر کو برٹش ورجن آئی لینڈ بھیجا جائے گا۔ انڈین انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر جن 33 افراد کیخلاف پاناما پیپرز کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے ان میں امیتابھ بچن بھی شامل ہیں، تاہم انہوں نے بیان دیا ہے کہ ان کا کسی فرم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے ہم ابھی ان کیخلاف معلومات اکھٹی کر رہے ہیں۔انڈین حکام کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرز میں موجود ناموں کی معلومات تک رسائی کیلئے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسسز کے ایک سینئر افسر کو برٹش ورجن آئی لینڈ بھیجا جائے گا جبکہ دیگر ملکوں سے بھی تفصیلات اکھٹی کی جائیں گی۔دوسری جانب امیتابھ بچن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جس آف شور کمپنی کا ڈائریکٹر ظاہر کیا گیا ہے اس سے کوئی تعلق نہیں، کبھی غیر قانونی طریقے سے رقم باہر نہیں بھیجی۔خیال رہے کہ بھارتی حکام پر تحقیقات کیلئے اس وقت دباؤ بڑھنا شروع ہوا جب پاکستان کی عدالت عالیہ نے پاناما پیپرز سے منسلک ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ پاناما پیپرز کو موزاک فونسکا نامی ایک فرم کی جانب سے لیک کیا گیا تھا جس میں 500 ایسے بھارتی شہریوں کے نام ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔