مقبول خبریں
دی سنٹر آف ویلبینگ ، ٹریننگ اینڈ کلچر کے زیر اہتمام دماغی امراض سے آگاہی بارے ورکشاپ
پارٹی رہنما شعیب صدیقی کو پاکستان تحریک انصاف پنجاب کا سیکریٹری جنرل بننے پر مبارک باد
جموں کشمیر تحریک حق خود ارادیت جولائی میں برطانیہ و یورپ میں کانفرنسز،سیمینارز منعقد کریگی
قومی متروکہ وقف املاک بورڈ کا سربراہ پاکستانی ہندو شہری کو لگایا جائے:پاکستان ہندوکونسل کا مطالبہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
مظلوم کشمیری بھائیوں کیلئے پہلے کی طرح آواز بلند کرتے رہیں گے:مئیر کونسلر طاہر محمود ملک
اوورسیز پاکستانیز ویلفیئر کونسل کا وسیم اختر چوہدری اور ملک ندیم عباس کے اعزاز میں استقبالیہ
مسئلہ کشمیر کو برطانیہ و یورپ میں اجاگر کرنے پر تحریکی عہدیداروں کا اہم کردار ہے: امجد بشیر
جس لڑکی نے خواب دکھائے وہ لڑکی نابینا تھی!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
پاناما لیکس کی بھارت میں بھی گونج،سپر سٹار امیتابھ بچن کیخلاف تفتیش شروع
ممبئی: انڈین انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے بالی ووڈ کے سپر سٹار امیتابھ بچن سمیت درجنوں افراد کیخلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معلومات تک رسائی کیلئے ایک ٹاپ لیول افسر کو برٹش ورجن آئی لینڈ بھیجا جائے گا۔ انڈین انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر جن 33 افراد کیخلاف پاناما پیپرز کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے ان میں امیتابھ بچن بھی شامل ہیں، تاہم انہوں نے بیان دیا ہے کہ ان کا کسی فرم سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے ہم ابھی ان کیخلاف معلومات اکھٹی کر رہے ہیں۔انڈین حکام کا کہنا ہے کہ پاناما پیپرز میں موجود ناموں کی معلومات تک رسائی کیلئے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکسسز کے ایک سینئر افسر کو برٹش ورجن آئی لینڈ بھیجا جائے گا جبکہ دیگر ملکوں سے بھی تفصیلات اکھٹی کی جائیں گی۔دوسری جانب امیتابھ بچن نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ جس آف شور کمپنی کا ڈائریکٹر ظاہر کیا گیا ہے اس سے کوئی تعلق نہیں، کبھی غیر قانونی طریقے سے رقم باہر نہیں بھیجی۔خیال رہے کہ بھارتی حکام پر تحقیقات کیلئے اس وقت دباؤ بڑھنا شروع ہوا جب پاکستان کی عدالت عالیہ نے پاناما پیپرز سے منسلک ہونے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ پاناما پیپرز کو موزاک فونسکا نامی ایک فرم کی جانب سے لیک کیا گیا تھا جس میں 500 ایسے بھارتی شہریوں کے نام ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر اپنی آف شور کمپنیاں بنا رکھی ہیں۔