مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
چار سال قبل کوڑے پر سرمایہ کاری کرنے والے کو قسمت نےبیٹھے بٹھائے 22 ہزار ڈالر کا مالک بنا دیا
اوسلو ... قسمت کی دیوی سے لوگ عام طور پر خفا ہی رہتے ہیں ساری ساری عمر لاٹری کھیلتے ہیں مگر انعام نہیں نکلتا لیکن یہ دیوی کیسے مہربان ہوتی ہے اسکی کی ایک مثال دنیا کو ایک عام سےشخص کرسٹوفر کے ذریعے دیکھنے کو ملی۔ ناروے کے باشندے کرسٹوفرکوچ نے چار برس قبل امریکی مارکیٹ میں ورچوئیل کرنسی بٹ کوائن میں 22 ڈالر کی سرمایہ کاری کی جسکا نتیجہ انہیں اب ساڑھے آٹھ لاکھ امریکی ڈالر فائدے کے ساتھ ملا۔ بٹ کوئنز دنیا کی پہلی ڈیجیٹل مگر انتہائی غیر مستحکم کرنسی ہے جس کا استعمال انٹرنیٹ پر خریداری کے لیے ہوتا ہے۔ اس کرنسی کو صارف اپنے فون یا کمپیوٹر پر موجود انکرپٹڈ والِٹ میں رکھتا ہے۔ کرسٹوفر کوچ نے کہا کہ انھیں ورچوئل کرنسی کی قدر میں اضافے کے بارے میں اخبار میں خبر پڑھ کر اپنی سرمایہ کاری یاد آئی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اچانک معلوم ہوا کہ ان کے پانچ ہزار بٹ کوئنز یا سکوں کی مالیت ساڑھے آٹھ لاکھ امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔ ناروے کے میڈیا نے کوچ کے حوالے سے بتایا کہ ’میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ میری سرمائے کی قدر میں اس قدر اضافہ ہوگا۔ کرسٹوفر کوچ نے کہا کہ سنہ 2009 میں انکرپشن پر تحقیق کرنے کے بعد انھوں نے ورچوئل کرنسی میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ اب اوسلو کے ایک مہنگے علاقے میں فلیٹ خریدنے کے قابل ہوئے۔ انھوں نے یہ فلیٹ اپنے پانچ ہزار بٹ کوائنز کا پانچواں حصہ بیچ کر حاصل کیا۔