مقبول خبریں
مسرت چوہدری اور اختر چوہدری کا لارڈ مئیر عابد چوہان کے اعزاز میں ظہرانہ
پاکستان پریس کلب یوکے کے سالانہ انتخابات اور تقریب حلف برداری
چیئرمین پی آئی ایچ آرچوہدری عبدالعزیز کوسوک ایوارڈ فار کمیونٹی سروسز سے نواز گیا
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
اسرار احمد راجہ کی کتاب کی تقریب رونمائی ،مئیر آف لوٹن کونسلر طاہر ملک ودیگرافراد کی شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
ہر انسان کو اس کے مذہب کے مطابق تدفین کی اجازت ملنی چاہئے: سعیدہ وارثی و دیگر
Corona virus
پکچرگیلری
Advertisement
چار سال قبل کوڑے پر سرمایہ کاری کرنے والے کو قسمت نےبیٹھے بٹھائے 22 ہزار ڈالر کا مالک بنا دیا
اوسلو ... قسمت کی دیوی سے لوگ عام طور پر خفا ہی رہتے ہیں ساری ساری عمر لاٹری کھیلتے ہیں مگر انعام نہیں نکلتا لیکن یہ دیوی کیسے مہربان ہوتی ہے اسکی کی ایک مثال دنیا کو ایک عام سےشخص کرسٹوفر کے ذریعے دیکھنے کو ملی۔ ناروے کے باشندے کرسٹوفرکوچ نے چار برس قبل امریکی مارکیٹ میں ورچوئیل کرنسی بٹ کوائن میں 22 ڈالر کی سرمایہ کاری کی جسکا نتیجہ انہیں اب ساڑھے آٹھ لاکھ امریکی ڈالر فائدے کے ساتھ ملا۔ بٹ کوئنز دنیا کی پہلی ڈیجیٹل مگر انتہائی غیر مستحکم کرنسی ہے جس کا استعمال انٹرنیٹ پر خریداری کے لیے ہوتا ہے۔ اس کرنسی کو صارف اپنے فون یا کمپیوٹر پر موجود انکرپٹڈ والِٹ میں رکھتا ہے۔ کرسٹوفر کوچ نے کہا کہ انھیں ورچوئل کرنسی کی قدر میں اضافے کے بارے میں اخبار میں خبر پڑھ کر اپنی سرمایہ کاری یاد آئی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اچانک معلوم ہوا کہ ان کے پانچ ہزار بٹ کوئنز یا سکوں کی مالیت ساڑھے آٹھ لاکھ امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔ ناروے کے میڈیا نے کوچ کے حوالے سے بتایا کہ ’میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ میری سرمائے کی قدر میں اس قدر اضافہ ہوگا۔ کرسٹوفر کوچ نے کہا کہ سنہ 2009 میں انکرپشن پر تحقیق کرنے کے بعد انھوں نے ورچوئل کرنسی میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ اب اوسلو کے ایک مہنگے علاقے میں فلیٹ خریدنے کے قابل ہوئے۔ انھوں نے یہ فلیٹ اپنے پانچ ہزار بٹ کوائنز کا پانچواں حصہ بیچ کر حاصل کیا۔