مقبول خبریں
اولڈہم کے نوجوانوں کی طرف سے روح پرور محفل، پیر ابو احمد مقصود مدنی کی خصوصی شرکت
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
انشورنس کمپنیاں طوفان سے نقصانات کے تخمینے میں مصروف عمل، بلین پائونڈز ادائیگیاں متوقع
لندن ...برطانیہ اور یورپ میں آنے والے حالیہ طوفان سے پونے والی تباہی کا جہاں تخمینہ لگایا جا رہا ہے وہیں انشورنس کمپنیاں اپنے انشوررز کو ہونے والی تقصان اور اس کے ازالے کی مہم میں جڑ چکی ہیں۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا موجودہ نقصانات کا تقابل ماضی کے ملٹی بلین پونڈ پر مشتمل موسمیاتی نقصانات سے کیا جاسکتا ہے یانہیں، مالی نقصانات کا ابتدائی خاکہ رواں ہفتے کے اواخر تک آنے کی توقع ہے۔ ایسوسی ایشن آف برٹش انشوررز نے کہا ہے کہ 1987 ء میں آنے والے طوفان سے 2بلین پونڈ کے قریب اور 2007 ء میں آنے والے موسم گرما کے سیلابوں سے 3 بلین پونڈ سے زیادہ کی تباہی ہوئی تھی۔ برطانیہ میں بارش اور 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جھکڑ چلنے کے باعث لوگوں کو امور زندگی نبٹانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ طوفان کا آغاز اتوار کی شب ہوا جس کے بعد ریل گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کی آمد و رفت میں تاخیر یا منسوخی کے علاوہ حکام کو بعض سڑکوں اور پلوں کو بھی ٹریفک کے لیے بند کرنا پڑا۔ شمالی لندن میں طوفان کے باعث درخت گر گئے اور صبح کے وقت کام پر جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ برطانیہ میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق طوفان کی وجہ سے دو لاکھ 20 ہزار مکانات کو بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔ شمالی یورپ میں پیر کے روز آنے طوفانی جھکڑوں اور تیز ہواؤں کی لپیٹ میں آ کر کم از کم تین افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔ رات سے شروع ہويے والے طوفان کی لپیٹ میں خاص طور پر فرانس، ہالینڈ اور برطانیہ آئے۔ کئی جرمن شہروں میں بھی تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری رہا۔ برطانیہ میں دو اور ہالینڈ میں ایک شخص کی ہلاکت ایمسٹرڈیم میں ہوئی۔ شمالی یورپ میں بے شمار درخت زمین سے اکھڑ گئے۔ برطانیہ، فرانس اور ہالینڈ میں لاکھوں گھر بجلی کی سپلائی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس طوفان کے حوالے سے برطانیہ کا محکمہ موسمیات، مدد کے حکومتی ادارے اور تمام ٹی وی چینل وارننگ دے چکے تھے، اس طوفان سے ہفتہ قبل ان کا کہنا تھا کہ بحراوقیانوس میں یہ طوفان ہفتہ کے روز اٹھے گا۔ اتوار کی شب اور پیر کو جنوبی ساحل سے ٹکرا جائے گا جس کے ساتھ انتہائی طاقتور ہوائیں چلیں گی۔ 80میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے طوفانی جھکڑوں سے درخت جڑوں سے اکھڑ سکتے ہیں یا سڑکوں اور عمارات کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ متاثر اور بجلی کا نظام تباہ ہوسکتا ہے۔ میٹ آفس پر چیف فورکاسٹر ایڈی کیرول کا کہنا تھا کہ فی الوقت یہ طوفان موجود نہیں ہے مگرہمارے فورکاسٹ ماڈلز نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ ممکنہ طور پر ہفتہ کو مغربی بحراوقیانوس میں اٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک یہ امکان بھی ہے کہ طوفان مزید جنوبی سمت مڑ جائے اور برطانیہ سے ہٹ کر شمالی یورپ میں تباہی کا باعث بنے گا۔