مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
رضا ربانی کی تجاویز کو تسلیم کرتا ہوں، 14 اگست کو اپنا پروگرام دوں گا: نواز شریف
لاہور: سابق وزیر اعظم نے کہا کہ چار سال پہلے آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ نواز شریف بجلی نہیں آ رہی، ملک میں دہشتگردی ہے، آج چار سال ہوئے ہیں اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ بڑی حد تک کم ہو گئی ہے مگر پھر بھی مجھے گھر بھیج دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ منتخب وزرائے اعظم کے ساتھ ایسا ہی ہوا، انہیں اوسطاً ڈیرھ ڈیڑھ سال بعد گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ آپ ووٹ دیتے ہیں، چند لوگ وزیر اعظم کو گھر بھیج دیتے ہیں، کیا ستر سال سے سارے وزیر اعطم غلط آ رہے ہیں؟ نہیں تو پھر انہیں کیوں گھر بھیجا جاتا ہے؟سابق وزیر اعظم نے لوگوں سے استفسار کیا کہ پاکستان ترقی کر رہا تھا یا نہیں کر رہا تھا؟ کون ہیں جو پاکستان پر اتنا ظلم کرتے ہیں؟ کیا پاکستان میں بہتری نہیں ہو رہی تھی؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کے ووٹ کی کوئی قدر نہیں، چار سال میں بڑی محنت سے کام کیا، شہباز شریف سے پوچھو بجلی کے کارخانے 20، 20 ماہ میں مکمل کئے، پاکستان کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے والوں کا احتساب ہونا چاہئے یا نہیں؟ نواز شریف بولے پاکستان پر ظلم کرنیوالوں کا حساب ہونا چاہئے یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ انقلاب نہ آیا تو دنیا کی بدترین قوم بن جائیں گے، انقلاب نہ آیا تو کسی کو انصاف نہیں ملے گا، خوشحالی نہیں ملے گی، انقلاب نہ آیا تو دنیا کی بدترین قوم بن جائیں گے، جو جذبہ یہاں دیکھا اس سے پہلے نہیں دیکھا، 3 ڈکٹیٹر 30 سال کھا گئے، ہر وزیر اعظم کو اوسطاً ڈیڑھ سال ملے۔نواز شریف نے لوگوں سے کہا کہ میں نے آپ سے جو وعدہ کیا وہ پورا کیا، ابجلی دینے کا وعدہ کیا، بجلی آ گئی، دہشتگردی ختم کرنے کا وعدہ کیا، دہشتگردی ختم ہو گئی، اب میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ حکم دیں تو میں آپ کے ووٹ کی حرمت بحال کرواؤں گا، انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کی تقدیر نہیں بدلے گی گھر نہیں بیٹھوں گا، اگر ملک کو بچانا ہے تو آپ کو مجھ سے یہ سچا وعدہ کرنا ہے کہ آپ پاکستان میں انقلاب برپا کرنے کیلئے میرا ساتھ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کے شہیدوں کے ساتھ کیا وعدہ پورا نہیں کیا، پرسوں 14 اگست ہے، ہمیں ملک میں انقلاب برپا کرنا ہو گا۔ انہوں نے لوگوں سے پوچھا کہ آپ نیا پاکستان بنانے میں میرا ساتھ دیں گے؟ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم ملک کے آئین کو تبدیل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آپ سے دو وعدے کر رہا ہوں، اگر آپ نے مجھے اور میری جماعت کو موقع دیا تو ہم ملک میں فوری انصاف کا نظام لائیں گے اور لوگوں کو سستے گھر دیں گے۔سینیٹ کے چیئرمین کی تجاویز کو تسلیم کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ ہم ان کے ساتھ بیٹھیں گے اور ان کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کام کریں گے۔ سابق وزیر اعظم نے 14 اگست کو اپنا اگلا لائحہ عمل دینے کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے شہداء کی قربانی کو سلام پیش کرتا ہوں اور ان کے اہلخانہ سے اظہار ہمدردی کرتا ہوں۔