مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
لائی فائی کا کامیاب تجربہ، روشنی کی مدد سے دس گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سےآن لائن ڈیٹا منتقلی
میڈن ہیڈ ...دنیا میں سائنس جس رفتار سے ترقی کر رہی ہے آنے والے دنوں میں ہم کسی بھی ناممکن تصور کو ممکنات میں شامل کرنے کے قابل ہو جائیں گے جیسا کہ انٹرنیٹ کے زریعے بھاری سے بھاری ڈیٹا کی جلد از جلد منتقلی ہے۔ برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے روشنی کی مدد سے دس گیگا بِٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر بغیر تاروں کے معلومات منتقل کرنے والی اس ٹیکنالوجی کو ’لائی فائی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس خبر کو مزید جاننے سے پہلے یہ جاننا ازحد ضروری ہے کہ اس سے پہلے ڈیٹا منتقلی کی اسپیڈ کیا تھی۔ اس سال کے آغاز میں ایک جرمن ادارے نے ایک گیگا بِٹ فی سیکنڈ تک معلومات منتقل کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی ماہ چینی سائنسدانوں نے ایسے مائیکرو چپ والے ایسے ایل ای ڈی بلب تیار کیے تھے جو ایک سو پچاس میگا بِٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا منتقل کر سکتے ہیں اور ایک بلب چار کمپیوٹروں کو انٹرنیٹ فراہم کر سکتا ہے۔ سنہ دو ہزار گیارہ میں پروفیسر ہاس نے ایک ایل ای ڈی بلب کی مدد سے ایک ہائی ڈیفی نیشن ویڈیو کو ایک کمپیوٹر تک پہنچانے کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ لائی فائی ایک سستی ٹیکنالوجی ہے جس میں مخصوص ایل ای ڈی بلبوں کے ذریعے انتہائی کم خرچ پر انتہائی تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کیا جا سکے گا۔ جسکا مطلب ہے کہ سفید روشنی کی ایک ہی شعاع سے دس گیگا بِٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا منتقل کیا جا سکتا ہے۔