مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر وزیر اعظم پاکستان لندن پہنچ گئے، کرزئی سے ملاقات ہوگی!
لندن ... وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر لندن پہنچ آئے ایئر پورٹ پر برٹش وزیر خارجہ کے کار خاص بل ہینڈرسن نے ان کا استقبال کیا جبکہ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن اور امریکہ میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی بھی اس موقع پر ہمراہ تھے۔ اپنی رہائشگاہ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سپورٹ ہماری پالیسی میں شامل ہے، پاکستان کو اپنے فیصلے کرنے کا اختیار ہے اور ہم یہ اختیار استعمال کرنے کا حق رکھتے ہیں، کراچی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاں دن بدن امن پو رہا ہے اور جلد ہی مکمل پرامن شہر ہمارے سامنے ہو گا، درون حملوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ کسی صورت برداشت نہیں اس لئے حالیہ ملاقات میں امریکی صدر سے یہ بات کھل کر کہہ دی۔ برطانیہ میں وزیر اعظم پاکستان کی آمد کا اصل مقصد تو ورلڈ انٹرنیشنل اسلامک فورم کے اجلاس میں شرکت ہے جو ٢٩ سے ٣١ اکتوبر لندن میں منعقد ہو رہا ہے تاہم برطانیہ کا پہلا سرکاری دورہ ہونے کی حیثیت سے وزیر اعظم پاکستان کی برطانوی ہم منصب کے علاوہ متعدد اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت سے بھی ملاقات ہو گی۔ منگل کے روز برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اور افغان صدر حامد کرزئی دس دائوننگ اسٹریٹ میں سہہ ملکی مزاکرات کریں گے۔ اس ملاقات میں پاک افغان سرحدی صورتحال، نیٹو سپلائی، اگلے سال سے نیٹو افواج کی واپسی سمیت متعدد امور پر بات چیت ہو گی۔ جبکہ اگلے روز یعنی بدھ کو وزیر اعظم پاکستان اپنے برطانوی ہم منصب سے اکیلے ملاقات کریں گے جس میں صحت اور تعلیم کے علاوہ دیگر شعبوں میں پاکستان کی امداد کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔ عالمی اسلامی اقتصادی فورم میں 115 ممالک کے کم و بیش 1800 سیاستدان ، ماہرین مالیات، تاجر اور دیگر مندوبین شرکت کریں گے۔ اجلاس میں ملائیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق، برونئی کے سلطان، اردن کے شاہ عبدالله ثانی، افغانستان کے صدر حامد کرزئی، بحرین کے ولی عہد سلمان، بنگلہ دیش کے صدر عبدالحمید، مراکش کے وزیر اعظم عبد اللہ بن کیران اور پاکستان کے وزیر اعظم محمدنواز شریف کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ عالمی اسلامی اقتصادی فورم کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈکیمرون نے کہا ہےکہ برطانیہ دنیا میں اسلامی سرمایہ کاری کیلئے ترجیح بننا چاہتا ہے، اس ہفتے لندن پہلی مرتبہ اسلامی دنیا سے باہر عالمی اسلامی اقتصادی فورم کا میزبان بن رہا ہے، جس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ تجارت کیلئے کھلا ہوا ہے، انھوں نے کہا کہ مسلم اکثریتی ممالک میں سے بعض دنیا کی سب سے زیادہ تیزی سے ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے سبب اسلامی سرمایہ کاری کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے برطانیہ کیلئے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔