مقبول خبریں
اولڈہم ہوپ ووڈ ہاؤس ہیلتھ سنٹر میں خواتین کو آگاہی دینے کیلئے لیڈی ہیلتھ ڈے کا اہتمام
بھارتی لابی نے کشمیر کانفرنس کوانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے: شاہ محمود قریشی
تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں اظہار یکجہتی کشمیر کانفرنس کا انعقاد
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
میئرآف لوٹن (برطانیہ) نے شاہد حسین سید کو کمیونٹی سروسز پر شیلڈ پیش کی
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
راجہ نجا بت حسین کی صدر آزاد کشمیر سردار مسعود اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سے ملاقات
کشمیر‘ جہاں خواب بھی آنسو کی طرح ہیں!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مصیبت اور پریشانی سے بہتر مستقبل کی راہ نکالنے کے خواہشمند 22 لاکھ افراد یورپ داخلے کے منتظر
لندن ...معروف برطانوی اخبارات نے انکشاف کیا ہے کہ ایک طرف شام جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بھوک، افلاس اور بدامنی کی صورتحال سے دوچار ہے تو دوسری جانب یورپ میں عرصے سے اپنے اسٹیٹس کے حصول کیلئے خاموش زندگی گزارنے والے غیر قانونی افراد نے شامی افراد کی جعلی شناختیں حاصل کر کے اپنے اپنے پسند کے ملک میں پہنچنے کے لئے تگ و دو شروع کر دی ہے۔ سنڈے مرر نے گزشتہ روز انسانی سمگلنگ میں ملوث ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا ہے جو شامی پناہ گزینوں کو برطانیہ سمگل کرکے لاکھوں پونڈ کما چکا ہے۔ گروہ کے ارکان نے ترکی کے شہر استنبول میں بھیس بدل کر ملنے والے اخبار کے نمائندوں کو بتایا کہ وہ 34 ہزار پونڈ کے عوض شام سے 3 افراد کو جعلی پاسپورٹ اور دستاویزات کے ذریعے برطانیہ پہنچا دے گا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ اس نے پہلے شام میں اشتر نامی ایک خاتون سے ملاقات کی جس نے برطانیہ میں کئے جانے والے تشدد سے بچنے کیلئے برطانیہ پہنچنے کی غرض سے اپنی جمع پونجی اس گروہ کے حوالے کردی تھی، یہ خاتون جو کہ ٹیچر ہے اب جنوبی انگلینڈ میں مقیم ہے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح انسانی سمگلروں نے اسے جعلی پاسپورٹ پر ترکی سے برطانیہ پہنچا دیا، اسے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا لے جایا گیا جہاں سے اسے کار کے ذریعہ سوئیڈن لے جایا گیا اور پھر وہاں سے برٹش ایئرویز کی پرواز کے ذریعے برطانیہ پہنچا دیا گیا، اخبار کے مطابق گروہ کے ارکان کے پورے یورپ میں رابطے ہیں اور ایئر پورٹ اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے بعض اہلکار بھی ان سے ملے ہوئے ہیں، یہ ترکی سے شامی پناہ گزینوں کو اٹلی، ہالینڈ اور سکینڈی نیویا کے ممالک بھی پہنچاتے ہیں لیکن سب سے زیادہ خرچ برطانیہ پہنچانے پر آتا ہے، اخبار کے مطابق گروہ انسانی سمگلنگ کے اس کاروبار کے ذریعے لاکھوں پونڈ کما چکا ہے۔ اس خاتون نے برطانیہ میں پناہ کیلئے حکام کو بتایا کہ شام میں اسد حکومت کے فوجیوں نے اسے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے میں ترکی میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد چھ لاکھ ہے جن میں سے چار لاکھ کیمپوں میں جبکہ باقی ادھر ادھر رہ کر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک محطاط اندازے کے مطابق شام، ترکی اور عراق سے تقریبا 22 لاکھ افراد یورپ میں پناہ کی خواہش لئے بیٹھے ہیں۔ اگلے سال تک ان میں دو ملین تک کے مزید اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔ ٹیلی گراف کا کہنا ہے کہ برطانوی بارڈر پولیس نے فرانس اور برطانیہ کو سمندر کے ذریعے ملانے والے آسان بارڈر کیلس کی بندرگاہ پر کئی دنوں سے سخت سردی میں ڈیرہ جمائے پناہ کے خواہشمندوں کو ہر انفرادی کیس کی نسبت سے برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔