مقبول خبریں
مئیر کونسلر جاوید اقبال نےرضاکارانہ خدمات پرتنظیم وائی فائی کو تعریفی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ سے نوازا
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کرپٹ خان
پاناما مقدمہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی آخری منزل کے قریب پہنچ چکا ہے عوام کی اکثریت اس مقدمہ سے ملی جلی امیدیں لگائے بیٹھی ہے ان میں ہر دوسرا سمجھتا ہے کہ عدلیہ اب صرف "عدل" کرے گی جب کہ بعض سانپ کے ڈسے رسی سے بھی ڈرتے ہوئے اور ملکی تاریخ کے انصاف کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی زیادہ مثبت خیالات نہیں رکھتے اور سمجھتے ہیں کہ کاروبار سیاست ایسے ہی چلتا رہے گا بحرحال یہ بات طے ہے عمران خان نے جس طرح جرات مندی اور حوصلہ مندی سے لٹیروں کی سلطنت کو چیلنج کیا ہے اس کی سزا اسے ملنی چاہئے خان نے عشروں سے پاکستان کو یرغمال بنائے رکھنے والوں کی دم پر پاؤں رکھنے کی جو بے ادبی کی ہے یہ نا صرف قابل گرفت ہے بلکہ قابل سزا بھی ہے عمران نے جو جرم کیے ہیں ان کی فہرست بہت لمبی ہے اس نے اپنے مقام اور شہرت کا فائدہ اٹھا کر اس پاکستان کی دولت کو کیوں نہیں لوٹا جس کے عوام بھوک بیماری سے مر رہے ہیں اس نے اس قوم کی دولت کو کیوں دبئی سعودیہ برطانیہ اور یورپ میں نہیں پہنچایا اس ظالم نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں کیوں اپنا گھر بنا لیا اور یہاں کے بادشاہوں کو بے گھر کرنے کی جدوجہد شروع کی اس سر پھرے نے کیوں عوامی خادموں کی فیکٹریوں اور پراپرٹیوں کو میڈیا کے ذریعے برسر عام کر دیا خان کی جرات کیسے ہوئی کہ نہ وہ صدر و وزیراعظم یا وزیرومشیر بنا پھر بھی بنی گالا میں ایک بڑا گھر بنا لیا خان کا سب سے بڑاجرم یہ ٹھہرا کہ اس نے ان کی طرح پاکستانی دولت کو بیرون ملک سمگل کیوں نہیں کیا بلکہ پاگل پن کی انتہا کہ باہر سے اپنی زندگی کی محفوظ کمائی اس پاکستان میں لے آیا جہاں کے صدر و وزیراعظم بھی اپنی دولت کو اندرون ملک غیر محفوظ سمجھتے ہیں خان نے پاکستان سے محبت اور وفاداری کو ترجیح دیتے ہوئے محبت بھری ازدواجی زندگی قربان کرنے کا ناقابل معافی جرم بھی کیا اس خان نے چار سال کے پی کے حکومت ہونے باوجود بیرون ملک نہ سرکاری دورہ کیا اور نہ ہی ابھی تک سرکاری علاج کروایا ہاں عمران خان کو نااہل ہی ہونا چاہیے ایسے اسلامی معاشرے کے لیے جس کے کونسلر تک گلیوں کے نام پر ٹھیکیداروں سے کمیشن لیتے ہیں لیکن اس جوشیلے نے سمندر کی لہروں کے مخالف سمت تیرنے کا ارادہ کر لیا جس کا نتیجہ ڈوبنا ہی تھا اس خان نے پورے ملک کے "ان" کو ایک صف میں کھڑا کرنے کا بھی جرم کیا ہے جو اس سے قبل صرف لوٹنے اور پھٹنے کے لیے ایک صف میں ہوتے تھے اب ان کی نیندیں اڑانے اور ہر چوک چبارے پر ان سفید پوشوں کے کپڑے اتارنے والے بے ادب کو بھی سزا ملنی چاہئے عجیب پاکستانی ہے کہ دیانتداری اور انصاف کا ڈھول بجانے آگیا ہے حالانکہ اچھا بھلا ہر غریب درمیانے طبقے اور ایسے فرد کو جن کا کوئی اثرورسوخ نہیں تھا ان کے جرائم کی سزا مل رہی تھی اور ہر بڑے بددیانت اور لٹیرے کو اس کے جرم کی جزا مل رہی تھی اس لوٹ مار کے خاموش سمندر میں پریشانی اور رسوائی کی لہروں کو حرکت دینے والے کو اب رسوا کرنے کا وقت آ گیا اس پاک باز کو ارب اور کھرب پتی نہ بننے کئ بناء پر ہمیشہ کے لیے سیاست سےنااہل قرار دے دینا چاہیے بلکہ باقی زندگی کے لیے اڈیالا جیل میں منتقل کر کیے بنی کالا کا سرسبزوشاداب گھر وزیراعظم ہاؤس کو سونپ دینا چاہیے ان صحافیوں کو صدارتی ایوارڈ ملنا چاہیے جنھوں نے وسیع تر ملکی مفاد میں عمران خان کے کرکٹ کھیل کر ناجائز دولت کمانے کے جرائم سے پردہ اٹھاتے ہوئے اپنی دیانتدارانہ اور پیشہ وارا نہ ذمہ داریاں سرانجام دیں اس کے ساتھ ہی ان تمام خادمین قوم کو اور ان کی آنے والی نسلوں کو ریاست کی جانب سے یہ سرٹیفیکیٹ دیا جانا چاہیے کہ وہ اب اس مزارع قوم کے زندگی بھر بذریعہ قرعہ اندازی مالک رہیں گے ان کے خلاف زہررسانی کرنے یا بے انصافی کرنے والے ہر "خان" کو نشان عبرت بنا کر قومی فریضہ ادا کیا جائے گا جب کہ ان مالکوں کی دولت کو با حفاظت بیرون ملک پہنچانے اور ان کی بادشاہت کے تحفظ کے لیے چودہ چودہ قتل کرنے والے سرکاری اور نیم سرکاری فرض شناسوں کو اعلی شاہی ممالک میں انعام و اکرام کے ساتھ محفوظ بنا دیا جائے گا اللہ سلامت رکھے مشرف و راحیل کو جنھوں نے نہ صرف ملکی سرحدوں کے تحفظ اندرونی استحکام اور کرپشن کے خاتمے کے لیے قربانیاں دی اب آنے والے ہر ایسے عسکری ہیرو کو سعودی مدد سے برطانوی فلیٹ یا اعلی سرکاری روزگار پاک فوج کے سربراہوں کے پیکج میں شامل کر دینا چاہیے تا کہ ملک میں نہ جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق ہو اور نہ شاہی خاندان کے لیے کوئی " خان" پریشانی کا باعث بن سکے پاکستان اور اس کی "باشعور" عوام کی ترقی اور خوشحالی محض اسی جمہوریت میں ہے جس میں میاں اور ذرداری بھائی بھائی ہوں تاکہ وہ ہر جمہوریت اور ملک دشمن خان پر بھاری ثابت ہوں