مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
عالمی برادری بھارت کو کشمیریوں کا حق خودارادیت دینے پر مجبورکرے: سید حسین شہید سرور
لیوٹن ... ممتازسیاسی و سماجی شخصیت اورمسلم لیگ آزاد کشمیرکے رہنماء سید حسین شہید سرورنےآزادکشمیرکے ممتازقانوندان چوہدری محمد الیاس کے اعزازمیں یہاں اپنی رہائشگاہ کاغان ہاؤس لیوٹن میں استقبالیہ دیا۔ چوہدری الیاس ایڈوکیٹ گذشتہ روزیورپ کے دیگر ممالک کا دورہ کرنے کے بعد برطانیہ پہنچے ہیں۔معززمہمان کے استقبال کے لیے سید حسین شہید سرور کے ساتھ لیوٹن سابق میئر محمد ریاض بٹ، سید حسن شہید کاظمی،پروفیسر امتیازچوہدری، مرزا توقیر جرال، مسعود ایوب بٹ، شبیرحسین ملک، راجہ نعیم، ممتازقریشی اور شاہد حسین سیداور دیگر دوست و احباب موجودتھے۔ اس موقع پرستائیس اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی اور شرکاء نے مقبوضہ کشمیرپر بھارت کے ناجائزقبضے اور بھارتی بربریت کے خلاف اپنی برہمی اور نفرت کااظہارکیااوربھارتی مظالم کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔چوہدری الیاس ایڈوکیٹ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ ہ وہ آگے آئے اور مقبوضہ وادری میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائے اوربھارت کو کشمیریوں کا حق خودارادیت دینے پر مجبورکرے۔ یادرہے کہ 27،اکتوبر1947 ؁ء کو بھارت نے اپنی فوجیں کشمیرمیں داخل کرکے سری نگرسمیت وادی کشمیرکے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرلیاتھا۔ استقبالیہ کے موقع پر سید حسین شہید سرور نے کہاکہ اس وقت بھارت عالمی قوانین کی بڑے پیمانے پر خلاف وزری کررہاہے۔ خاص طورپر مقبوضہ کشمیرمیں ماورائے عدالت قتل عام، جنسی تشدد، قتل وغارت کے دیگرواقعات، پرتشدد گرفتاریاں اورکشمیری حریت رہنماؤوں کی نظربندی اور وادی میں خوف وہراس ان مظالم کی زندہ مثالیں ہیں۔ بھارت ایک طرف دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدارہے اور دوسری طرف کشمیریوں پر تشددکرکے ان کے جمہوری حقوق غصب کررہاہے ۔اس دوران زوردیاگیاکہ جنوبی ایشیاء میں اس وقت تک امن نہیں ہوسکتاجب تک مسئلہ کشمیرمنصفانہ طورپر حل نہ کرلیاجائے۔