مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
معروف برطانوی اخبارات غلط خبر چھاپنے پر مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ سے تحریری معذرت پر رضامند
لندن برطانیہ میں میڈیا کی سرگرمیوں کی حدود پر نظر رکھنے والے ادارے پریس کمپلینٹس کمیشن کی مداخلت کے بعد معروف برطانوی اخبارات دی میل اور دی سن مسلم لیگ ن برطانیہ کے سینئر نائب صدر ناصر بٹ کے بارے میں لکھی گئی سٹوری میں غیر تصدیق شدہ باتیں لکھنے پر معذرت پر آمادہ ہو گئے ہیں، دونو ں اخبارات دکھ پہنچانے والی اور غیر مستند خبر شائع کرنے پر ناصر بٹ کے نام ایک معذرت نامہ شائع کریں گے ۔ تاہم کشمیر لنک لندن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ناصر بٹ کا کہنا تھا کہ جھوٹ پر مبنی سٹوری سے انہیں جو ذہنی صدمہ پہنچا اس کے ہرجانے کیلئے وہ دونوں اخبارات پر بڑی مالیت کا دعوا دائر کریں گے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں اخبار دی سن نے ناصر بٹ کو دہرے قتل میں مورد الزام ٹھہرایا تھا اور اپنے اخبار کے پہلے صفحہ پر ان کی تصویر برطانوی ہوم سیکرٹری تھریسا مے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ساتھ شائع کی تھی۔ دی سن نے یہ سوال اٹھایا تھا ناصر بٹ کیسے حکومتی ایوانوں میں داخل ہوگئے تھے اور سینئرکیبنٹ وزیر سے ملنے والے دیگرافراد کی طرح ان کی چھان بین کیوں نہیں کی گئی تھی۔ اسکے ردعمل میں ناصر بٹ نے سن کے ساتھ ساتھ ڈیلی میل کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کردیا تھا، جس نے دی سن کی ویب سائٹ سے خبر کی نقل کی تھی۔ ناصر بٹ نے کہاکہ مذکورہ خبر اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی کوریج شہرت کو انتہائی نقصان پہنچانے والے مواد پر مبنی ہیں اور وہ مسلسل پریشانی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ناصر بٹ نے 1996 ء میں 2 بھائیوں کے قتل میں ملوث ہونے کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے بھائی کے قتل کے بعد دونوں بھائیوں کے قتل کے واقعہ سے پہلے ہی وہ پاکستان چھوڑ چکے تھے۔ پریس کمپلینٹس کمیشن نے ناصر بٹ کو بتایا ہے کہ شکایت پر دونوں اخبارت نے مذکورہ آرٹیکلز اپنی ویب سائٹس سے ہٹالئے ہیں اوران کو دوبارہ شائع نہیں کیا جائے گا۔اخبارات نے تسلیم کیا کہ ان کی کوریج غیر مصدقہ تھی۔ ایک حقدار کو اس کا حق دلانے میں مدد دینے پر ناصر بٹ نے پریس کمپلینٹس کمیشن کا شکریہ ادا کیا ہے۔