مقبول خبریں
ن لیگ برطانیہ و یورپ کا نواز شریف،مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل ہونے پر اظہار تشکر
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
ہم دھوپ میں بادل کی، درختوں کی طرح ہیں!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بالی ووڈ اداکار سنجے دت کو قانون کے مطابق رہا کیا گیا: مہاراشٹرا حکومت
ممبئی: مہاراشٹرا حکومت نے ممبئی ہائیکورٹ میں سنجے دت کی رہائی سے متعلق حلف نامہ جمع کرا دیا ہے جس میں کہا گہا ہے کہ بالی ووڈ اداکار کی جلد رہائی قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی تھی اور ان کے ساتھ اس سلسلے میں کسی قسم کی کوئی خصوصی رعایت نہیں برتی گئی۔مہاراشٹرا حکومت نے جیل میں اچھے چال چلن اور مثبت سرگرمیوں میں شرکت کے باعث سنجے دت کی سزا کم کرتے ہوئے انھیں 8 ماہ قبل ہی رہا کر دیا تھا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ممبئی ہائیکورٹ کے بنچ کو جمع کرائے گئے حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ سنجے دت کو اچھے برتاؤ، ڈسپلن، تعلیمی سرگرمیوں سمیت متعدد پروگراموں میں شرکت کی وجہ سے جلد رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ممبئی ہائیکورٹ نے بالی ووڈ کے سپر سٹار سنجے دت کی جلد رہائی پر سوالات اٹھائے تھے۔ جج آر ایم ساونت اور سادھنا جادھو نے مہاراشٹرا حکومت سے اس معاملے میں جلد جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت جواب دے کہ سنجے دت کو کس بنیاد پر جلد رہا کیا گیا اور کن معیارات سے اچھے رویے کا فیصلہ کیا جاتا ہے؟ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب سنجے دت اپنی سزا کا آدھے سے زیادہ وقت جیل سے باہر تھے تو جیل انتظامیہ کو ان کے رویے کا پتہ کس طرح چلا؟خیال رہے کہ 1993ء کے ممبئی بم دھماکوں کے دوران غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے جرم میں سنجے دت کو 5 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔ مئی 2013ء میں انہیں سپریم کورٹ سے سزا ملی اور وہ پونا کی يرواڈا جیل میں بند تھے، جہاں سے فروری 2016ء میں انہیں رہا کرتے ہوئے تقریباً 8 ماہ کی سزا کم کر دی گئی تھی۔