مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری
سرینگر/نئی دہلی:مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ کے باوجود احتجاجی مظاہرے جاری رہے ،بھارتی سورماؤں نے بزرگ پرتشددکر کے آنکھ نکال دی۔ مرکزی جامع مسجد سرینگرکی چوتھے جمعہ بھی تالہ بندی کی گئی نمازیوں کو عبادت سے روک دیا گیا ،پلوامہ میں قابض فوج کی فائرنگ کے بعد نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائوکردیا ، کئی علاقوں میں دفعہ 144نافذ اور گھر گھر تلاشی جاری رہی۔ بھارت نے وادی میں عسکریت پسندی میں اضافے کا اعتراف کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے مسلسل چوتھے جمعہ کوبھی سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دی ۔ جامع مسجد کی طرف جانیوالی تمام سڑکوں کی ناکہ بندی کر کے راستے میں خار دار تاریں بچھادی گئیں جبکہ جامع مسجد کے تمام دروازے مقفل کردئیے گئے ۔ نمازیوں کو مسجد جانے سے روکنے کیلئے علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا۔ پائین شہر کے خواجہ بازار میں بھارتی فوج نے احتجاجی جلوس میں شرکت کرنیوالے نوجوانوں کی مار پیٹ سے روکنے پر 60سالہ بزرگ غلام حسن ہاشی کی آنکھ نکال دی جسے تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کردیاگیاہے ۔واقعہ کے خلاف مقامی لوگوں نے احتجاج کیا اورغلا م حسن ہاشی پرتشددمیں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کامطالبہ کیا۔ سری نگر سمیت کئی مقامات پر شہریوں نے دفعہ144 کی پابندیاں توڑ کر بھارت کے خلاف مظاہرے کیے ۔ پلوامہ میں اس وقت کہرام مچ گیا جب وہاں احتجاج کرنے والے ایک ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے فورسز نے گولی چلائی جس سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا ۔ فورسز کی فائرنگ کے جواب میں نوجوانوں نے پتھرائو شروع کیا جس پر فورسز نے پہلے شیلنگ کی اور اس کے بعد پیلٹ چھروں کا استعمال کیا جس سے کئی نوجوان زخمی ہوگئے اس دوران مقامی لوگوں کے مطابق فورسز نے مظاہرین پر گولی بھی چلائی جس سے ایک نوجوان زخمی ہوگیا البتہ پولیس نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیاہے ۔جنوبی کشمیر کے بعض مقامات پر آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اٹھا۔نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر فورسز پر پتھرائو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے ۔ ادھر کریم آباد پلوامہ میں بھی فوج نے تلاشی لی اس دوران مکینوں سے تفتیش بھی کی گئی ۔ ڈاڈ سرہ ترال میں پولیس وفورسز نے گھر گھر تلاشی لی ۔ شہر سرینگر کے سات پولیس سٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جمعہ کوبھی سکیورٹی سخت رہی ۔ خانیار، نوہٹہ ، رعناواری ، مہاراج گنج ، صفا کدل ، مائسمہ اور کرالہ کھڈ میں دفعہ144 کے تحت شہریوں کی نقل وحرکت روک دی گئی۔ادھر بھارتی وزارت داخلہ نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہورہے ہیں سال 2016کے دوران 88 نوجوان عسکریت پسندوں کی صفوں میں شامل ہو گئے ۔وزارت داخلہ کی نئی رپورٹ کے مطابق اس وقت بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں220 عسکریت پسند متحرک ہیں بھارت کا الزام ہے کہ ان میں سے 50 فیصد پاکستانی ہیں۔