مقبول خبریں
چوہدری سعید عبداللہ ،چوہدری انور،حاجی عبدالغفار کی جانب سے حاجی احسان الحق کے اعزاز میں عشائیہ
قاضی انویسٹ منٹ کی جانب سے وطن کی محبت میں ڈیم فنڈ کیلئے ایک لاکھ پائونڈ عطیہ کا اعلان
تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے ساتھ ملکر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرینگے :کرس لیزلے و دیگر
ڈیم سے روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ چلے گا: چیف جسٹس پاکستان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
پاکستان سے تشریف لائے ممبر پنجاب اسمبلی فیاض احمد وڑائچ کا دورہ منہاج ویلفیئر فائونڈیشن
میاں جی کی لڑکیاں
پکچرگیلری
Advertisement
مقبوضہ کشمیر بھر میںیوم شہداء پرمکمل ہڑتال، کرفیو، حریت قیادت نظر بند،1شہید
سرینگر:کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے گزشتہ روز یو م شہدائے کشمیر اس عزم کی تجدید کے ساتھ منا یاکہ وہ اپنے ناقابل تنسیخ حق ،حق خود ارادیت کے حصول تک شہداء کے مشن کو جاری رکھیں گے ۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر بھر میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔ سرینگر، بڈگام ،شوپیاں اور دیگر اضلاع میں بھارت مخالف مظاہرے روکنے کیلئے کرفیو لگا دیا گیا جبکہ نقشبند صاحب سرینگر کی طرف مارچ روکنے کے لئے سرینگر میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات رہے ۔ مارچ کی کال دینے والی حریت قیادت کو نظر بند کر دیا گیا۔کشمیریوں نے 13جولائی 1931کوڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج کی طرف سے سرینگر سینٹرل جیل کے باہر ے 22کشمیریوں کو شہید کرنے کی یاد میں تاریخی دن منایا ۔مقبوضہ وادی کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ،قصبوں میں نظام زندگی مفلوج رہا ۔مظاہروں میں ایک نوجوان شہید ہو گیا۔سرینگر کے پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج، صفا کدل، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئیں۔پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ۔ نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے لیکر چھتہ بل تک متعدد مقامات پر سیل کیا گیا ہے ۔ اس سڑک کے کچھ مقامات پر بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کی گئیں۔ دریں اثنا سرینگر میں شہر کے ملارٹہ نوہٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سجاد احمد گلکار جسے تین دن قبل شہید کردیاگیا تھا کی نعش گزشتہ سہ پہر اہل خانہ کے سپرد کی گئی۔سجاد کی نعش ملتے ہی کئی علاقوں سے لوگوں نے کرفیو توڑتے ہوئے احتجاج کیا اور جلوس کی صورت میں انکی میت کو جامع مسجد سرینگر پہنچانے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کے مطابق قابض فورسز نے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر پہلے ٹیر گیس اور بعد میں پیلٹ بندوق کا استعمال کیا،جس کی وجہ سے 30سے زائدافراد زخمی ہوئے ۔زخمیوں میں روزنامہ گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمٰی سے وابستہ فوٹو جرنلسٹ امان فاروق کے سر اور بازو پر پیلٹ لگ گئے ۔ سجاد احمد گلکار کی میٹ کو بعد میں اندرونی راستوں سے رڈ پورہ رعناواری اسٹڈئم پہنچایا گیا جہاں ہزاروں لوگوں نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔کرفیو کے باعث سجاد احمد کو بعد مین ملہ کھاہ میں سپرد خاک کیا گیا بعد میں رعناواری اور ملہ کھاہ کے نزدیک بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔جہاں ایک نوجوان شہید ہو گیا جسے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر سپردخاک کیا گیا۔مظاہرین کے نام اپنے پیغام میں سید علی گیلانی نے کہا کہ پرامن سیاسی سرگرمیوں پر عائد سخت ترین پابندیاں عدمِ استحکام میں اضافے کی باعث بن رہی ہیں اور اسی وجہ سے نوجوان نسل سرفروشی کے راستے کا انتخاب کرنے پر آمادہ ہے ۔ کوئی دن ایسا نہیں جب ہم اپنے لخت جگروں کے جنازے نہیں اٹھاتے ۔ مسئلہ کشمیر نے حقیقی معنوں میں ایک انسانی المیے کی شکل اختیار کرلی ہے ۔ بھارت اس تنازعے کو صرف اپنی ملٹری طاقت کے ذریعے حل کرانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ کشمیریوں کی ایک منصوبہ بندی سے نسل کشی کررہا ہے ۔ حریت چیئرمین نے جاں بحق ہوئے نوجوانوں کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔