مقبول خبریں
مدر فائونڈیشن گوجرخان کے روح رواں راجہ عرفان کی برطانیہ آمد پر انکے اعزاز میں استقبالیہ
ماحولیاتی آلودگی کے باعث بچہ ماں کے رحم میں مر جاتا ہے یا اسکی افزائش رک جاتی ہے: ایک تحقیق
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری محمد رضا کی زیر صدارت عہدیداران و کارکنان کا اجلاس
برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان میں زبردست پذیرائی، وزیر اعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
حلقہ ِ ارباب ِ ذوق کے ادبی پروگرام میں پاکستانیوں اور کشمیری کونسلرز کی بڑی تعداد میں شرکت
پارک ویو کمیونٹی سنٹر شہیر واٹر میں ہمنوا یو کے کے زیرِ اہتمام یوم آزادی پاکستان تقریب کا انعقاد
پروفیٹک گفٹس ویڈنگ اینڈ ایونٹس آرگنائزر کے زیر اہتمام ایشین ویڈنگ اینڈ پلانرز ایونٹ کا انعقاد
میرے تمام خواب نظاروں سے جل گئے
پکچرگیلری
Advertisement
قطری شہزادے کو تفتیش کا حصہ نہ بنایا گیا تو جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں:ن لیگ
اسلام آباد: شہر اقتدار میں وفاقی وزراء نے جے آئی ٹی پر اپنے تحفظات سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پانامہ تحقیقاتی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا اور شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم استثنیٰ لے سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں لیا، وزیر اعظم نے خود کو احتساب کے لئے پیش کیا، وزیر اعظم نے جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کیا، تمام شواہد عدالت میں پیش کئے جا چکے ہیں، جے آئی ٹی کے بننے کے بعد شکوک و شہبات پیدا ہوئے ہیں اور جے آئی ٹی پر بہت سے سوال اٹھے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ جو شک پیدا ہوا اسے عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے، وزیر اعظم کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ہے تاہم، جے آئی ٹی کی تشکیل اور اس کے اراکین روز اول سے متنازع رہے۔وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ معزز ججز کے ریمارکس کو مخالفین ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں، عدالتوں نے مخالفین کے رویوں کا نوٹس نہیں لیا، ن لیگ سب سے بڑی جماعت ہے اور اس نے سب سے زیادہ ووٹ لئے۔ سعد رفیق نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی میں حساس اداروں کے ارکان کی شمولیت پر تحفظات تھے، عامر عزیز مشرف دور میں شریف خاندان کے پیچھے لگائے گئے، عامر عزیز کا نام سامنے آیا تو مسائل کھڑے ہوئے، بلال رسول میاں اظہر کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ہماری پیاری جے آئی ٹی کو فون ٹیپ کرنے کی اجازت کس نے دی؟ اگر ریاستی اداروں کا احترام لازم ہے تو منتخب حکومت کا بھی احترام کیا جائے۔ سعد رفیق کا مزید کہنا تھا کہ اس صورتحال میں ہمیں انصاف ہوتا نظر نہیں آ رہا، ہمیں کہا گیا تھا کہ جے آئی ٹی کو ایف آئی اے ہیڈ کرے گی لیکن اب ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جے آئی ٹی کو ہیڈ کوئی اور کر رہا ہے، یہ کوئی نہیں بتاتا کہ چوری اور کرپشن کہاں ہوئی ہے؟ پٹیشن کچھ اور تھی، کیس کہیں اور جا رہا ہے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی کمیشن چودھری احسن اقبال نے کہا کہ 2013ء میں قوم نے نواز شریف کو بھرپور مینڈیٹ دیا تو وزارت عظمیٰ کا خواب چکنا چور ہونے پر ایک شخص نے سازشیں شروع کر دیں، سب سے پہلی سازش دھرنے کی صورت میں سامنے آئی، دھرنا ٹو کی صورت میں پھر سازش کی گئی۔ انہوں نے نام لئے بغیر تحریک انصاف کے سربراہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر، گلگت بلتستان میں الیکشن ہارے، وہ ضمنی الیکشن اور بلدیاتی انتخابات بھی ہارے جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی طلبی سے سٹاک مارکیٹ بیٹھ گئی، پاکستان کی ترقی کو سیاسی بے یقینی میں تبدیل کرنا مجرمانہ حرکت ہے، سیاسی پٹیشن کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا۔ احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ چور دروازوں سے اقتدار میں آنے کا وقت گزر چکا، اب اقتدار ووٹ کی طاقت سے ملے گا، اگر اب کسی نے سازش کی تو وہ منہ کی کھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اربوں کے منصوبے ملک میں لائے، ایک روپے کی کرپشن دکھا دیں، مخالفین چور دروازے سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں، 10 ہزار میگا واٹ بجلی مئی 2018ء میں سسٹم میں شامل ہو جائیگی۔ احسن اقبال نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہمارے خلاف ایک روپے، ایک ڈالر کی کرپشن ثابت کر دیں، بجلی کے متعدد منصوبوں میں بچت کی گئیں، 4 سالہ دور حکومت میں کرپشن کا کوئی سکینڈل نہیں۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ کرپشن سے خزانے خالی ہوتے ہیں، بھرتے نہیں، ہمارے تین ادوار حکومت میں کوئی کرپشن کیس نہیں بنا۔ احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ جے آئی ٹی کے سوالات کا پٹیشن سے کوئی تعلق نہیں، جے آئی ٹی کے غیرضروری سوالات کا بھی جواب دیا، مافیا اور گاڈ فادر کے دور میں عدالتیں نہیں لگتیں، قطری شہزادے کو تفتیش کا حصہ نہ بنایا گیا تو جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں۔خواجہ آصف بولے، قطری شہزادے کو تفتیش کا حصہ نہ بنایا گیا تو جے آئی ٹی کی رپورٹ قبول نہیں کریں گے، گاڈ فادر یا سسلین مافیا عدلیہ کی آزادی کی جنگ نہیں لڑتے، ایڈیٹنگ کے بغیر جے آئی ٹی کی کارروائی کی آڈیو ویڈیو عوام کو دکھائی جائے۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ عوام کو پتہ چلنا چاہئے کہ شریف خاندان سے کیا سوال کئے گئے۔ انہوں نے عمران خان سے سوال کیا کہ انہیں طلاق شدہ بیوی پیسے بھیجتی ہے، یہ معجزے کیسے ہوتے ہیں؟ عمران خان سے بھی پوچھا جائے، اس پر بھی جے آئی ٹی بنائی جائے، عمران خان نے زکوٰة کے پیسے کاروبار میں کیسے لگائے؟ عدالت عظمیٰ کی عظمت کیلئے نواز شریف گھر سے نکلا تھا، جب نواز شریف لاہور سے نکلے تو ان کے گوجرانوالہ پہنچنے سے پہلے عدلیہ بحال ہو گئی۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بھی نواز شریف سرخرو ہوئے، آج بھی سرخرو ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے، اب 93ء اور 99ء جیسی صورتحال نہیں، اپنے حق کا بھرپور دفاع کریں گے، دنیا کوشش کر رہی ہے کہ ایٹمی قوت کو معاشی قوت نہ بننے دیا جائے، اسے روکنے پر دھرنے والوں کو سازشی کہتے ہیں، تحفظات اور اعتراض کرنا ہمارا حق ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ آصف بولے، فوج اور حساس اداروں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، فوج اور حساس اداروں کا ایک آئینی رول ہے، فوج ملک کی حفاظت کیلئے قربانیاں دے رہی ہے۔