مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش ..!!
بھارت میں پارلیمانی انتخابات میں تو ابھی کم ازکم پانچ مہینے باقی ہیں لیکن آئندہ مہینے دلی سمیت کئی ریاستوں میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے سبب ملک کی سیاسی فضا کافی گرم ہے اور انتخابی مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں کے رہنما یعنی بی جے پی کے نریندر مودی اور کانگریس کے راہل گاندھی روزانہ ملک کے کسی نہ کسی حصّے میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کر رہے ہیں اور دونوں ہی رہنما ایک دوسرے کی جماعت پر ملک میں فرقہ پرستی کو فروغ دینے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا کہ مظفر نگر کے حالیہ فسادات میں جو مسلمان مارے گئے ہیں ان کے پندرہ بیس نوجوانوں کے رشتے داروں سے پاکستان کی خفیہ سروس آئی ایس آئی نے رابطہ قائم کر رکھا ہے۔ آئی ایس آئی انہیں بھارت کے خلاف استعمال کرنے کے لیے اپنا ایجنٹ بنانے والی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ معلومات انہیں انٹیلی جنس بیورو کے ایک افسر نے ان کے دفتر میں آ کر دی۔ ایجنٹ نے کانگریس کی وزارت عظمی کے امیدوارکو یہ بھی بتایا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے اہلکار ان مسلم نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں وہ آئی ایس آئی کی طرف نہ جائیں۔ راہل گاندھی حکومت میں شامل نہیں ہیں اور سرکاری طور پر ان کی حیثیت صرف ایک رکن پارلیمان کی ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ انٹیلی جنس کے اہلکار ایک رکن پارلیمان کو کیوں رپورٹ کریں گے۔ یہ سوال تو راہل سے پوچھا ہی جا رہا ہے لیکن ان کے سیاسی حریف نریندر مودی نے انہیں چیلنج کیا ہے کہ وہ ان مسلم نوجوانوں کے نام بتائیں جن سے بقول راہل گاندھی آئی ایس آئی نے رابطہ قائم کیا ہے۔ مودی نے کہا کہ اگر راہل ان نوجوانوں کا نام نہیں بتاتے تو وہ مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے ان سے معافی مانگیں۔ مودی واضح طور پر مسلمانوں کے ہمدرد نہیں لیکن راہل سے ان کا سوال بالکل موزوں ہے۔ راہل نے مظفر نگر کے فساد زدہ مسلمانوں کے بارے میں انٹیلی جنس کے جوالے سے جو بات کی ہے اس کے بارے میں بعض تجزیہ کاروں نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ہندو فرقہ پرست ذہنیت کی عکاس ہے۔ ہزاروں مسلمان اب بھی اپنے لٹے ہوئے گھروں سے دور مظفر نگر کے جنگلات کی زمین پر واقع ریلیف کیمپوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہ اس قدر خوفزدہ ہیں کہ شاید وہ کبھی بھی اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکیں گے۔ کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ راہل نے اپنے والد مرحوم راجیو گاندھی کی ہی طرح انتخابات سے پہلے ہندو کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے۔