مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
بارش میں نغموں کا فلمایا جانا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا تھا: اداکارہ سری دیوی
لندن: بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سری دیوی نے اپنے فلمی کیریئر میں برسات میں فلمائے گئے نغموں سے کئی بار دھوم مچائی اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں۔ اس حوالے سے فلم "چاندنی" کا گیت ’لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے، فلم "چال باز" میں "نہ جانے کہاں سے آئی ہے" اور "مسٹر انڈیا" میں "کاٹے نہیں کٹتے" جیسے گانے بہت مقبول اور ہٹ رہے ہیں لیکن سری دیوی کا کہنا ہے کہ بارش میں نغموں کا فلمایا جانا ان کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے سے خصوصی بات چیت میں سری دیوی نے برسات کے موسم میں فلمائے گئے اپنے نغموں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا برسات کے گانے ٹارچر ہیں میں تو ان کا قطعی لطف نہیں لے سکتی کیوں کہ زیادہ تر ان نغموں کو فلماتے وقت میں بیمار ہو جاتی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کے دور کی اداکاراؤں کو بہت ساری سہولیات دستیاب ہیں جو پہلے میسر نہیں تھیں۔ ان میں سب سے اہم "وینٹی وین" ہے جو ایک طرح کی نعمت ہے، ہمارے وقت میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہوا کرتی تھی۔ ہم تو درختوں اور جھاڑیوں کے پیچھے یا بس کے پیچھے کپڑے تبدیل کیا کرتے تھے۔ سری دیوی نے بتایا کہ ٹوائلٹ کی کمی کی وجہ سے وہ شوٹنگ کے دوران سارا دن پانی بھی نہیں پیا کرتی تھیں۔