مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
اذان کو شور قرار دینا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے : بھارتی اداکارہ کالکی کوچلن
ممبئی : نامور بھارتی اداکارہ کالکی کوچلن نے کہا ہے کہ اذان کو شور قرار دینا صحیح نہیں ہے ، بھارت میں مختلف مذاہب کے لوگوں کی عبادت کرنے کا طریقہ الگ ہے ، کالکی نے شور کے نام سے ایک ویڈیو میں دکھایا ہے کہ بھارت میں لوگوں کو روزانہ کس قسم کی آوازوں کا سامنا رہتا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نامور بھارتی اداکارہ کالکی کوچلن نے اذان سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اذان کو شور قرار دینا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے ۔گزشتہ کچھ عرصے سے بھارتی اداکاروں کی جانب سے اذان سے متعلق مختلف بیانات سامنے آرہے ہیں جن میں کئی اذان مخالف اور کئی اذان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں ، اذان کی آواز سے متعلق تنازع بھارتی گلوکار سونونگم کے ٹوئٹس سے شروع ہوا جس میں انہوں نے اذان کو شور قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آخر بھارت میں یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہو گی ، ان کے پیغامات نے بھارت سمیت دنیا بھر میں مقیم تمام مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر دیا تھا تاہم بعد میں انہیں اپنے بیانات پر معافی مانگنی پڑی تھی۔سونونگم کے بعد بھارتی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے دیگر فنکاروں کی جانب سے بھی مختلف بیانات سامنے آئے اور اب ایک اور نامور اداکارہ کالکی کوچلن کا اذان سے متعلق بیان سامنے آیا ہے ۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ کالکی نے حال ہی میں شور کے نام سے ایک ویڈیو ریلیز کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ بھارت میں رہنے والے لوگوں کو روزانہ کس قسم کی آوازوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ویڈیو کی ابتدا میں کالکی اپنے آس پاس کے شور سے متعلق کہتی ہوئی نظر آرہی ہیں کہ وہ جس علاقے میں رہتی ہیں وہاں ہر وقت شور ہوتا رہتا ہے ، کیونکہ وہاں مسجد ، مندر ، چرچ ، مختلف اشیا فروخت کرنے والے لوگ اور بہت زیادہ ٹریفک ہوتا ہے جہاں سے ہر وقت شور کی آوازیں بلند ہوتی رہتی ہیں ۔کالکی نے مزید کہا کہ بھارت میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں جن کی عبادت کرنے کا طریقہ الگ ہے ، کچھ لوگ مسجد ، کچھ چرچ اور کچھ مندر جاکر عبادت کرتے ہیں اور ان عبادت گاہوں میں مختلف طرح کی آوازیں ہر وقت سنائی دیتی رہتی ہیں ، اس کے علاوہ بھی ہمارے ارد گرد بہت سی آوازوں کا شور سنائی دیتا ہے ، جیسے موبائل فون کی آواز ، خبروں کی آواز ، مختلف موضوعات پر اپنی رائے دینے والے لوگوں کی آوازیں اور ہم ان تمام آوازوں کو بنا کوئی سوال کیے قبول کرلیتے ہیں ، لیکن ‘‘اذان’’ کی آواز کو بنیاد بنا کر اسے شور قرار دینا صحیح نہیں ہے ۔