مقبول خبریں
آشٹن گروپ کی جانب سے پوٹھواری شعر و شاعری کی محفل،شعرا نے خوب داد وصول کی
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کا دورہ امریکہ کامیاب رہا یا ناکام، کمیونٹی رہنما تقسیم
لندن ... وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے دورہ امریکہ کو برطانیہ میں مقیم کمیونٹی رہنما اپنی اپنی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ یوکے پاکستان چیمبر آف کامرس کے سابق صدر طارق چوہدری نے کہا ہے کہ جو حکمران کشکول پکڑ کر عالمی دورے کرتے ہیں انہیں بھلا کیا عزت مل سکتی ہے، میاں نواز شریف امریکہ گئے ہی اس نظرئے سے تھے کہ کوئی بیرونی امداد مل سکے ایسے حکمرانوں کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو پاکستان کے حکمران کا حالیہ دورے میں ہوا۔ کمیونٹی رہنما برطانیہ میں پاشا فائونڈیشن کے ترجمان عمر ملک نے میاں نواز شریف کے دورہ امریکہ کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کو اس دورے کیلئے پورے ملک کی حمائت حاصل تھی کیونکہ اہل پاکستان کی اکثریت موجودہ حالات کے تناظر میں امریکہ سے خوشگوار تعلقات کی خواہاں ہے ،اس وقت امریکہ پاکستان کی انرجی اور تعلیم کے شعبوں میں مدد کر رہا ہے اور وزیراعظم کے دورہ امریکہ میں امداد کا بحال ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ بھی پاکستان سے اچھے تعلقات چاہتا ہے ۔امریکہ کو بھی پاکستان کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی امریکہ کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ فرینڈز آف لیاری انٹرنیشنل کے کنوینر حبیب جان نے اس دورے کے حوالے سے کہا کہ پاکستانی پالیسی ساز اس دورے میں شکستگی سے دوچار رہے ان کے مقابلے میں ہمسایہ ملک کی لابی زیادہ مضبوط دکھائی دی اس لئے وزیر اعظم پاکستان سوائے ملاقاتوں کے کچھ نہ کر سکے۔ جس طرح وزیر اعظم نوازشریف اپنے ساتھ مطالبات کی ایک بڑی لسٹ لے کر گئے تھے ان میں سب سے بڑا مطالبہ ڈرون حملوں کا خاتمہ، عافیہ صدیقی کی رہائی، توانائی بحران کا حل ، تجارت اور عالمی منڈیوں تک رسائی وغیرہ شامل تھے لیکن ان میں کسی بھی مطالبے پر امریکہ کی جانب سے کوئی حوصلہ افزاء اور مثبت جواب نہیں مل سکا ۔ (رپورٹ و تصاویر: اکرم عابد)