مقبول خبریں
راچڈیل مساجد کونسل کی طرف سے مئیر کونسلر محمد زمان کی مئیر چیرٹیز کیلئے فنڈ ریزنگ ڈنر کا اہتمام
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے خصوصی سیل بنایا جانا چاہئے: سلیم مانڈوی والا
مسئلہ کشمیر کو پر امن طریقے سے حل کیا جائے: برطانوی و یورپی ارکان پارلیمنٹ کا مطالبہ
برطانیہ میں آباد تارکین وطن کی مسئلہ کشمیر پر کاوشیں قابل تحسین ہیں:چوہدری محمد سرور
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
کشمیریوں کو ان کا حق دیئے بغیر خطے میں پائیدار امن کا حصول ممکن نہیں: راجہ نجابت حسین
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
برطانیہ میں مقیم کشمیری و پاکستانی 16مارچ کو بھارت کے خلاف مظاہرہ کریں گے: راجہ نجابت حسین
وہ بے خبر تھا سمندر کی بے نیازی سے!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
روہنگیا فسادات میں صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ بودھ بھی مارے گئے:آنگ سان سوئی
لندن ... عمر کا بیشتر حصہ سماجی آزادی اور انسانی حقوق کی جنگ لڑتے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی برما کی رہنما آنگ سان سوئی نے دورہ یورپ میں برما کے مسلمانوں کے بارے میں خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا میں ہونے والی قتل و غارت گری میں صرف مسلمانوں کو ہی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ بودھ بھی نشانہ بنے۔ اپنے دورہ یورپ کے اختتام پر لندن میں شہزادہ چارلز اور شہزادی کمیلا سے ملاقات کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں انہوں نےمسلمانوں کے خلاف ہونے والے نسلی فسادات کو نسل کشی قرار دینے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فسادات کے بعد دونوں جانب خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ انہیں جب عالمی رپورٹوں کے حوالے سے یہ ثابت کیا گیا کہ اس ساری صورتحال میں مسلمانوں پر غیر انسانی مظالم ڈھائے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ بہت سے بودھوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی پر ماضی میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھانے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دورہ یورپ میں جمہوریت نواز برمی رہنما آنگ سان سوئی کی روہنگیا مسلم کمیونٹی کے اجتماعی قتل عام پر طویل خاموشی سے ان کے نوبل امن انعام جیتنے پر گہری تاریکی چھائی رہی۔ واضح رہے کہ انہیں 13 سال قبل یہ اعزاز دیا گیا تھا تاہم مسلسل 15 سال تک اپنے گھر میں نظر بند رہنے کے بعد رہائی پر وہ انعام وصول کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں کیونکہ انہیں اپنے وطن سے جلا وطن کئے جانے کا خدشہ تھا۔ اب وہ حال ہی میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئی ہیں اور اگلے صدارتی الیکشن میں صدر کی امیدوار ہیں۔