مقبول خبریں
کشمیر سالیڈیرٹی کیلئے یکم فروری سے 11فروری تک تقریبات منعقد کرائی جائیں گی
پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم اصغر کائرہ کی پریس کانفرنس ،صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے
واجد خان ایم ای پی کا آزاد کشمیر سے آئے حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے اعزاز میں عشائیہ
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
جموں و کشمیر تحریک حق خود ارادیت انٹر نیشنل کے زیر اہتمام پہلی کشمیر کلچرل نمائش کا اہتمام
دسمبر بے رحم اتنا نہیں تھا!!!!!!!!!!!!!
پکچرگیلری
Advertisement
روہنگیا فسادات میں صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہوئے بلکہ بودھ بھی مارے گئے:آنگ سان سوئی
لندن ... عمر کا بیشتر حصہ سماجی آزادی اور انسانی حقوق کی جنگ لڑتے اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والی برما کی رہنما آنگ سان سوئی نے دورہ یورپ میں برما کے مسلمانوں کے بارے میں خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ روہنگیا میں ہونے والی قتل و غارت گری میں صرف مسلمانوں کو ہی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ بودھ بھی نشانہ بنے۔ اپنے دورہ یورپ کے اختتام پر لندن میں شہزادہ چارلز اور شہزادی کمیلا سے ملاقات کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں انہوں نےمسلمانوں کے خلاف ہونے والے نسلی فسادات کو نسل کشی قرار دینے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فسادات کے بعد دونوں جانب خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ انہیں جب عالمی رپورٹوں کے حوالے سے یہ ثابت کیا گیا کہ اس ساری صورتحال میں مسلمانوں پر غیر انسانی مظالم ڈھائے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ بہت سے بودھوں کو بھی ملک چھوڑنا پڑا ہے۔ نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی پر ماضی میں بھی روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھانے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ حالیہ دورہ یورپ میں جمہوریت نواز برمی رہنما آنگ سان سوئی کی روہنگیا مسلم کمیونٹی کے اجتماعی قتل عام پر طویل خاموشی سے ان کے نوبل امن انعام جیتنے پر گہری تاریکی چھائی رہی۔ واضح رہے کہ انہیں 13 سال قبل یہ اعزاز دیا گیا تھا تاہم مسلسل 15 سال تک اپنے گھر میں نظر بند رہنے کے بعد رہائی پر وہ انعام وصول کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں کیونکہ انہیں اپنے وطن سے جلا وطن کئے جانے کا خدشہ تھا۔ اب وہ حال ہی میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہوئی ہیں اور اگلے صدارتی الیکشن میں صدر کی امیدوار ہیں۔