مقبول خبریں
برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے:ایم پی جیوڈتھ کمنز
کشمیر انسانی حقوق کی پامالیوں کا گڑھ ،اقوام عالم نوٹس لے، بھارت پر دبائو بڑھائے: فاروق حیدر
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
سید حسین شہید سرور کا سابق پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ جنرل ریاض نوید و دیگر کے اعزاز میں عشائیہ
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
کشمیریوں کی جدوجہد کا مثالی دن
24 اکتوبر کا دن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ 1947 میں اس روز آزاد کشمیر کے نام سے آواز خطے میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی جس کا قیام کا مقصد مقبوضہ کشمیر کا دوتہائی حصہ جس پر بھارت نے فوجی جارحیت کے تحت قبضہ کرلیا ہے اس آزاد کرانے کیلئے آزاد خطے کے عوام کو جدوجہد کیلئے تیار کرنا تھا 65 سال کے اس طویل عرصہ میں آزاد خطے میں برسر اقتدار آنے و الی حکومتوں کے جو کردار رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے مسلم کانفرنس ریاست کی پرانی اور بڑی جماعت نے بیشتر حصہ آزاد خطے میں حکومت کی ہے 1947 ء سے لے کر 1990 ء تک یہاں کا حکمران یہ گلہ کرتے رہے کہ تم بھی اٹھو اہل وادی مگر آزاد خطے میں کوئی تیاری نہیں کی کہ مقبوضہ کشمیر عوام کو کوئی حوصلہ ملے کہ آزادی کی جدوجہد میں وہ تنہا نہیں ہیں۔ آزاد خطے کے حکمران اور سیاست دان آہستہ آہستہ اقتدار کی کش مکش میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور مخلوم عوام کو فراموش کرچکے تھے مگر 1990 میں مقبوضہ کشمیر کے عوام نے جب بھارت کے خلاف جدوجہد کا اعلان کردیا تو توقع تھی اب آزاد خطے کے حکمران بھی اپنا ہائی موثر کردار ادا کریں گا اہنیں ہمیشہ یہ شکوہ ایسا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام جب تک خود میدان میں نہیں آتے آزاد خطہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا آخر کار مقبوضہ کشمیر کے عوام نے اپنا حق ادا کیا اور بھارت کے خلاف میدان میں آگے اس کے باوجود آزاد خطے کی قیادت ٹس سے مس نہ ہوئی 1990 سے لے کر اب تک ایک لاکھ کشمیری بھارت کے ظلم اور دہشت گردی کا نشان بن چکے ہیں دریائے جہلم میں ہر روز مظلوم کشمیریوں کی لاشیں آرہی ہیں مگر اقتدار کے بچاریوں نے آزاد خطے کے قیام کے مقاصد کے ابھی تک پورا نہیں کیا عوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بیداری نہیں یبرون ملک دوران لندن اور نیویارک کی سیرو تفریح پر کروڑوں روپے ضائع کیے جائیں گے لندن پہنچ کر انہیں کشمیر اور مظلوم کشمیری عوام یاد آتے ہیں مگر آزاد خطے میں ان کی کارکردگی صفر ہے آزاد کشمیر کے بجٹ میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی رقم مختص نہیں ہے بار بار یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ کشمیری آزادی کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں مگر یہ تیاری صرف اخباری بیانات تک محدود عملا کوئی پروگرام اور منصوبہ بندی نہیں۔ تحریک آزادی کے گزشتہ 20 سال میں حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی ایک بھی ایسا کام نہیں کیا کہ جس پر فخر کیا جاسکے البتہ افتدار کی خاطر ہر طرح کی آفر اور ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں پوری قوم کو تقسیم کر رکھا ہے بیرون ملک دوروں کو اپنے ذاتی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے برطانیہ اور یورپ میں آباد کشمیری کمیونٹی کو بے بیس کیمپ نے مایوس کیا ہے کہ آزاد خطے میں 24 اکتوبر 1947 میں قائم ہونے والی حکومت اپنے مقاصد میں نا کام ثابت ہوئی ہے آزاد خطے میں ایسی حکومت کی ضرورت ہے جس کے اندر جرأت ہو پوری قوم کوتحریک آزادی کشمیر کی پشت پر کھڑا کرکے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے شانہ بشانہ ان کی جدوجہد میں شامل ہو پاکستان کے قیادت کو مجبور کرکے کہ پاکستان کشمیریوں کی توقعات پر پورا اترے مگر حقیقت اس وقت کے برعکس ہے کہ اس آزاد کشمیر کے حکمران سیاست اپنے اقتدار کی خاطر پاکستان کے حکمرانوں کی خوشامد کرکے اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد حاصل کرنا کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں مگر مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے کوئی حصہ ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بیرون ملک برطانیہ یورپ میں آباد کشمیریوں کیلئے لحمہ فکر یہ ہے کہ وہ آزاد خطے کی قیادت کو مجبور کریں کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا فرض ادا کریں سیاسی اور جماعتی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر ایسے لوگوں اور قیادت کا ساتھ دیں جو بیس کیمپ میں صیح معنوں میں تحریک آزادی کشمیر کیلئے مخلص ہیں مشکل وقت میں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں عوام نے اگر اس موقع پر اپنا کوئی کردار ادا نہ کیا سیاسی اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر نہ سوچا تو پھر اس کی ذمداری صرف مقبوضہ کشمیر کے عوام پر عائد نہیں ہوگی بھارت اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوجائے گا۔ آزاد خطے سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں سے جس طرح برطانیہ اور یورپ میں تحریک آزادی کشمیر کے لئے بیس کیمپ کے طور پر سیاسی اور سفارتی محاذ پر مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ وہ آزاد خطے کے حکمرانوں کے بھی یہ پیغام دیں کہ وہ بیس کیمپ آزاد کشمیر کے مقاصد کوپورا کریں اور راستے میں مسائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے ایکٹ 74 کو ختم کیا جائے آزاد خطے کو ایک مثال خطہ بنایا جائے۔