مقبول خبریں
اولڈہم ٹاؤن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب،جم میکمان،مئیر کونسلر جاوید اقبال و دیگر کی شرکت
مشتاق لاشاری سی بی ای کا پورٹریٹ کونسل ہال میں لگا نے کی تقریب، بیگم صنم بھٹو نے نقاب کشائی کی
بھارت اپنے توپ و تفنگ سے اب کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو دبا نہیں سکتا:بیرسٹر سلطان
تین طلاقوں پر سزا، اسلامی نظریاتی کونسل کا وسیع پیمانے پر مشاوت کا فیصلہ
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کی فائرنگ سے شہری شہید، حریت رہنماؤں کی شدید مذمت
لوٹن میں بھی پی ٹی آئی کی کامیابی کا جشن، ڈھول کی تھاپ پر سڑکوں پر رقص اور بھنگڑے
آکاس انٹرنیشنل کی جانب سے پیرس فرانس میں پہلے یورپین فیملی فنگشن کا انعقاد
کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں : مقررین
آدمی کو زندگی کا ساتھ دینا چاہیے!!!
پکچرگیلری
Advertisement
یوم تاسیس کشمیر، ظلم اور جبر کا شکار کشمیریوں سے اظہار یکجہتی حق خودارادیت دینے کا مطالبہ
لندن ... آزادی ایک ایسی نعمت ہے جسکے حصول کے لئے قوموں کو صدیوں تک بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے کشمیر کا بچہ بچہ بھی اس نعمت کے حصول کیلئے زندگی کی آخری سانس تک اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ایسے خیالات کا اظہار برطانیہ بھر میں آزاد کشمیر کے چھیاسٹھویں یوم تاسیس کے موقع پر منعقدہ مختلف تقریبات میں مقررین نے کیا۔ برٹش پارلیمنٹ ہائوس میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن کشمیر کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس سے پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن، ڈیو اینڈرسن ایم پی، آل پارٹی پارلیمانی گروپ آف کشمیر کے چیئرمین اینڈریو گرفتھس ایم پی، وائس چیئرمین لارڈ قربان حسین، خالد محمود ایم پی، جان ہیمنگ ایم پی، جولی ہلنگ ایم پی اور آل پارٹی پارلیمانی گروپ آن پاکستان کے چیئرمین انڈریو اسٹیفنسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی کھل کر حمائت کی اور بھارتی افواج کی مقبوضہ کشمیر میں جارحیت کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا۔ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مقررین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا تسلیم شدہ حق خود ارادیت دے۔ برٹش پاکستانی و کشمیری کمیونٹی پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کو نمبرون مسئلہ بنانے کے لئے سوشل ویب سائٹس پر بھر پور مہم شروع کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ارکان پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کریں اور مین سٹریم میڈیا تک رسائی حاصل کریں تاکہ فلسطین اور دیگر مسائل کی طرح یہ مسئلہ بھی عالمی افق پر بھر پور طور پر سامنے آسکے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں ایک شخص کی ہلاکت بھی قابل قبول نہیں اور دنیا کی نام نہاد بڑی جمہوریت کی طرف ساے کشمیریوں پر مسلط کردہ افواج تو مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے مگر اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ کے عوام کی اکثریت کو مسئلہ کشمیر سے آگاہی ہی نہیں ہے حالانکہ انسانی حقوق کا تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کی تصدیق کی ہے۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض تنظیم کے چیئرمین مشتاق لاشاری نے ادا کئے۔ اس کے علاوہ اولڈہم، راچڈیل، بریڈ فورڈ، برمنگھم اور دارالحکومت سمیت متعدد شہروں میں تقاریب ہویئں جہاں ٹائون ہالز میں آزاد کشمیر کے پرچم لہرائے گئے۔ (رپورٹ: اکرم عابد)